سکیورٹی خامی اب بھی موجود، عراقچی نے علی خامنہ ای کے قتل کی تفصیل بتا دی

کامیابی کے امکانات 10 فیصد ہوں پھر بھی مذاکرات پر قائم رہنے کی ضرورت ہے: ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانا ایک ایسی سکیورٹی خامی کا نتیجہ تھا جو اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خامی صرف امن و امان کے پہلو تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات ملک کے اندر فیصلہ سازی کے عمل تک پھیل گئے تھے۔

عراقچی نے ایرانی میڈیا کی جانب سے نشر کیے جانے والے پروگرام "جنگ کی کہانی" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ رہبر اعلیٰ کے ہیڈ کوارٹر پر بمباری ایک سکیورٹی خامی کے ذریعے کی گئی اور یہ خامی اب بھی موجود ہے اور یہ خامی دیگر قابل توجہ امور اور فیصلہ سازی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے یہ کہا کہ ایرانی حکام نے جنگ کے پہلے ہی دن سے مختلف منظر ناموں سے نمٹنے کے لیے منصوبے تیار کر رکھے تھے۔ سپریم لیڈر کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی باوجود اس یقین کے کہ جنگ دوبارہ چھڑ جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مذاکرات کے موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے خواہ اس کی امید 10 فیصد ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ان کے بقول جنگ کے اپنے نقصانات اور اخراجات ہوتے ہیں۔

عراقچی نے واضح کیا کہ ریاستی ادارے اور مسلح افواج اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ فوجی ٹکراؤ دوبارہ شروع ہوگا۔ اس لیے انہوں نے اپنی تیاریوں کو مذاکراتی عمل کے نتائج پر معطل نہیں کیا۔ ایرانی فوجی ردعمل جنگ چھڑنے کے محض دو گھنٹے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔

یاد رہے 28 فروری 2026 کو علی خامنہ ای متعدد فوجی حکام کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ دارالحکومت تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں ان کے خاندان کے دیگر کئی ارکان بھی مارے گئے تھے۔

میزائل لانچنگ سسٹمز میں تبدیلیاں

اسی تناظر میں عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا وہ اجلاس، جس میں امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی منظوری پر بحث کی گئی تھی، رات نو بجے سے صبح تین بجے تک جاری رہا، ابتدائی جنگ بندی کو اس سے چھوٹے اجلاسوں میں قبول کیا گیا جن کے دوران سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانا ان شرائط کے بغیر ممکن نہیں تھا جن میں کہا گیا تھا کہ بعد میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کی بنیاد ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکات پر مشتمل تجویز کی شقوں پر عمل درآمد ہو۔

عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ جنگ ختم کرنے کا فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اندر اجتماعی طور پر کیا جاتا ہے اور قیادت کی توثیق کے بعد نافذ العمل ہوتا ہے۔ انہوں نے 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ کو روکنے کو ایک درست فیصلہ قرار دیا کیونکہ اس نے ایران کو بعد کے مہینوں میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے دونوں جنگوں کے درمیانی آٹھ مہینوں کے دوران میزائل لانچنگ سسٹمز میں تبدیلیاں کیں۔ اس سے ایران کی لانچنگ کی صلاحیت زیادہ پائیدار ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں