سعودی کاشت کار عویض جعید سال بھر اسٹرابری کیسے کاشت کرتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسٹرابیری کی مصنوعات کی آبی زراعت سعودی کاشت کاروں کے لیے ایک پرکشش علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ اسٹرابری کی پیداوار میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔

طائف شہر کے رہائشی عویض الجعید کسان نے سٹرابری آبی زراعت کی تکنیک کو اپنا کر زرعی پائیداری کی تلاش میں برسوں گزارے۔

زرعی شعبے میں محنت اور تحقیق کے بعد وہ اسٹرابری کاشت کرنے اورسال بھران کی بڑی مقدارمیں کاشت کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ حیران کن ہے کہ عویض جعید اسٹرابری جیسے پھل کے لیے نایاب ماحول پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اپنے تجربے کے بارے میں الجعید نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ وہ مختلف فصلوں کے لیے اپنی متعدد تکنیکوں کے ساتھ زراعت کے شعبے میں روایتی پیداوار سے ہائیڈروپونکس کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے اسٹرابری کی پیداوار پر توجہ دینا شروع کی کیونکہ یہ نایاب مصنوعات میں سے ایک ہے۔ مشکل موسمی ماحول میں اس کی کاشت ہوتی ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ عملی اور سائنسی تجربات کے نتیجے میں چار سال قبل پائیدار زرعی پیداوار تک پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ اسٹرابیری طائف کی مستقل پیداوار بن گئی۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ اس نے اُنہیں کئی شہروں میں برآمد کرنا شروع کیا۔ جعید اپنی کاشت کردہ اسٹرابری کو مملکت سے باہر برآمد کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کاشت کا رقبہ 10 ہزار مربع میٹر ہے۔ یہ ان کے فارم کے کل کا 1/6 ہے، جسے وہ پھیلانے اور زیادہ کھپت اور طلب والی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ مخصوص موسم کی فصلوں اور ہرموسم میں تیار کریں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کا پراجیکٹ اس پھل کو اگانے کے جذبے کے ساتھ شروع ہوا تھا۔اس کے بعد اعلی اقتصادی فزیبلٹی اور مخصوص غذائیت کی وجہ سے بہت سے صارفین کی پہلی پسند بن گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں