سری لنکا:صدرکی رہائش گاہ پردھاوے کے بعد مظاہرین کی سوئمنگ پول میں غوطہ خوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سری لنکاکے دارالحکومت کولمبو میں مظاہرین نے صدر گوتابایاراجاپکشے کی رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کے بعد وہاں واقع تالاب میں غوطہ خوری سے لطف اٹھایا ہے۔

سری لنکا میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری مالی بحران پر حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں مظاہرین نے پہلی مرتبہ سب سے بڑا مارچ کیا ہے اور اقتدار کے ایوانوں کو تہ وبالاکردیا ہے۔

مظاہرین کے دھاوے کے وقت یہ واضح نہیں ہواکہ آیا راجاپکشے اپنی رہائش گاہ کے اندر موجود تھے یا نہیں لیکن فوٹیج میں سیکڑوں افراد کو قلعہ نما گھر کے اندر اور باہر کے میدان میں دکھایا گیا تھا۔کچھ تالاب میں غوطہ خوری کررہے تھے اور کچھ خوش گوار موڈ میں تھے۔

حکومت کے ترجمان موہانا سمارانائکے نے کہا کہ انھیں راجاپکشے کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

سری لنکاکی معیشت تباہی کی حالت میں ہے اوراس کو بھارت اور دیگر ممالک کی امداد کے سہارے سنبھالادینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اس کے رہنما بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

معاشی مندی کی وجہ سے ملک میں ضروری اشیاء کی شدید قلّت پیدا ہوگئی ہے جس کے پیش نظر لوگ خوراک، ایندھن اور دیگراشیائے ضروریہ خرید کرنے کی تگ ودوکررہے ہیں۔

سری لنکا میں معاشی زبوں حالی کے خلاف گذشتہ کئی ماہ سے احتجاج جاری ہے۔اس نے گذشتہ دو دہائیوں سے سری لنکا پر حکومت کرنے والے راجاپکشے خاندان کی سیاست اور اقتدارکو قریباً ختم کردیا ہے۔

دریں اثناء یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ مظاہرین کے صدارتی اقامت گاہ اور دفتر پردھاوے کے بعد صدرگوتابایا راجاپکشے بھی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔اس سے پہلے مئی میں ان کے بڑے بھائی مہنداراجاپکشے نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفادے دیا تھا اور ان کے تین اور رشتہ داروں نے کابینہ کے عہدے چھوڑ دیے تھے۔

حالیہ مظاہروں کے دوران میں عوام کے غیظ وغضب کا نشانہ راجاپکشے خاندان ہی ہے۔ مظاہرین نے ان پر ناقص انتظام اوربدعنوانی کے الزامات عاید کیے ہیں۔سری لنکا کو طوائف الملوکی اورانارکی سے دوچارکرنے کا سنگین الزام عاید کیا ہے۔

مئی میں ایک نئے وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے ملک کو بحران سے نکالنے میں مدد کے لیے عہدہ سنبھالا تھا لیکن ہفتے کے روزمظاہرین کے شدید احتجاج کے بعد وہ بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں جبکہ دارالحکومت کولمبوسمیت ملک بھر میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہوکررہ گیا ہے۔حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے کولمبواور دوسرے شہروں میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size