’جزیرہ نما عرب کا ’سوئٹزرلینڈ‘ ،یمن جنگ کے جھنم کے قریب جنت نظیر وادی

یمن کا خوبصورت اور قدرتی سیاحتی مقام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

قدرتی خوبصورتی صرف سوئٹزرلینڈ جیسے ملکوں میں نہیں بلکہ جزیرہ عرب بھی ایسے طلسماتی خوبصورتی سے بھرپور مقامات سے بھرا پڑا ہے۔

حال ہی میں نوجوان یمنی فوٹوگرافر ہشام الہلالی حوف نیچر ریزرو کے قدیم جنگلات کا دورہ کیا۔ اس جگہ کو "یمن کا سوئٹزرلینڈ" اور جزیرہ نما عرب کے سب سے بڑے موسمی جنگلات میں سے ایک کہا جاتا ہے۔

یہ علاقہ شکار، زراعت اور اونٹوں اور مویشیوں کی پرورش، گندھک کے چشموں کی سرزمین ہے، عرب لوبان کا گھر ہے، اور گھنی دھند کی جنت ہے جو اسے سال کے 3 ماہ تک ہر طرف سے گھیرے رکھتی ہے۔

ہشام نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ریزرو ایک کھلے جنگل کی طرح ہے جس کی وسیع ہریالی کی کوئی حد نہیں ہے۔اس میں 18 قبائلی گروہ شامل ہیں۔ اس خوبصورت قطعہ جنت میں نایاب ہونے والے چیتے جیسے شکاری جانور، معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہرن، ہنس، جنگلی بلیاں، اور سرخ لومڑی، کچھوے اور ڈالفن کی ذیلی قسمیں ہیں، پودوں کی 250 اقسام اور نایاب اور ہجرت کرنے والے پرندوں کی 65 اقسام ہیں۔

ہشام کے پاس حوف ریزرو کی حیرت انگیز تصاویر ہیں، جو انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اس علاقے کی سیاحت کوفروغ دینے کا ارادہ رکھتاہوں۔ خاص طور پر چونکہ یہ سلطنت عمان کی سرحدوں سے متصل ہے، اس کے اثرات سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ وہ جنگ جس نے 8 سال قبل ملک کو کچل دیا تھا، اور ان کے مطابق یہ یمن کے تباہ حال خطوں کے خوبصورت چہرے کو تلاش کرنے کی دعوت ہے۔

بچپن سے ذریعہ معاش کا شوق

ہشام نے وضاحت کی کہ 2014 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے تعز گورنری سے مآرب شہر میں ان کی نقل مکانی نے انہیں فوٹوگرافی کے ذریعے اس تکلیف کی عکاسی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بچپن سے ہی فوٹو فرافی پسند ہے۔ سنہ 2018 میں میں نے مکمل تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک کیمرہ خریدا اور روزی روٹی کے لیے فوٹو گرافی کو بطور پیشہ شروع کیا۔

حوف ریزرو میں اپنے تجربے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ شروع میں یہ دورہ سیاحوں کی تلاش کے لیے تھا اور میں کسی بھی یمنی کی طرح تھا۔ مجھے حوف ریزرو کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا مگر جب میں نے اس کی خوبصورتی دیکھتی تو حیران رہ گیا۔

جغرافیائی خزانہ

23 سالہ ہشام یمن کے پورے جغرافیہ میں گھومنے کی امید رکھتے ہیں۔ وہ ایسی منزلوں اور اس کے خالص ذخائر کو تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو انسانی ہاتھوں سے آلودہ نہیں ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر حوف ریزرو، المہرہ گورنری کے خزانے کے طور پراور ہر یمنی گورنری کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں تمام صوبوں کا دورہ کر سکوں اور ان کی جمالیات کو اٹھا کر تمام لوگوں تک پہنچا سکوں۔"

سیر گاہ جسے جنگ نہیں چھو سکی

ہشام کے نقطہ نظر سے حوف ریزرو اپنے پودوں کے ورثے، حیاتیاتی تنوع اور خوبصورت قدرتی موسم کی وجہ سے ایک حقیقی سیاحوں کی دولت ہے اور اپنے زائرین کو جنگلی حیات کے تجربات، کیمپنگ، شکار، تفریح اور فطرت کی سطح پر آرام کرنے میں مزہ آتا ہے۔ اس کی ہوا کی پاکیزگی اور اس کے تازہ موسم کی ٹھنڈک جنگ نظیر وادی کا احساس دلاتی ہے۔ اس میں ایک طرف پہاڑ ہیں تو دوسری طرف حد نگاہ پھیلا نیلا سمندر ہے جہاں بارش کے موسم میں ریزرو جنت میں بدل جاتی ہے۔

موت کے نعروں کے خلاف سیاحوں کا خزانہ

اپنے کلپس کے ذریعے اپنے پیغام کے بارے میں الہلالی نے کہا کہ میرا پیغام جو میں دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ خوبصورت ملک اور اس کے اچھے لوگ تباہی کے مستحق نہیں۔ ہمارا ملک امن اور استحکام کا مستحق ہے۔ ہم زندہ رہنے، نقل و حرکت مستحق ہیں۔ ہمیں یہ حق ہے کہ ہم بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ملک کی خوبصورتی کو اجاگر کرسکیں۔ ہم اپنے ملک کی اس خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کریں جسے ہمارے دشمنوں نےچھپا رکھا ہے اور اس کہ جگہ وہ موت کے نعروں کو ترویج دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں