واشنگٹن میں 35 برس کا سب سے بڑا فوجی مظاہرہ، صدر ٹرمپ کی قیادت میں پریڈ کا انعقاد
سات ہزار فوجی، درجنوں ٹینک اور ہیلی کاپٹرز شریک
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز واشنگٹن میں اپنی 79 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بڑی فوجی پریڈ کی قیادت کی، جو امریکی تاریخ میں گذشتہ 35 برس کے دوران سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پریڈ امریکی فوج کے قیام کی 250 ویں سالگرہ کے طور پر منایا گیا جس میں تقریباً 7 ہزار فوجی، درجنوں ٹینک اور ہیلی کاپٹرز شریک ہوئے۔
یہ پریڈ صدر ٹرمپ کا دیرینہ خواب تھا جو بالآخر شرمندۂ تعبیر ہوا، تاہم ملک بھر میں اس موقع پر "نہیں بادشاہت" کے نعرے کے تحت مظاہرے بھی کیے گئے، جن کا مقصد ان کی دوسری مدت صدارت پر اعتراض ریکارڈ کرانا تھا۔
فوج کے مطابق اس پریڈ پر تقریباً 45 ملین ڈالر کے اخراجات آنے کا امکان ہے۔
احتجاجی مظاہرے
مظاہروں کے منتظمین نے کہا ہے کہ یہ مظاہرے ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے سب سے بڑے احتجاج ہوں گے، جن کا مقصد "آمریت، امیروں کو ترجیح دینے والی پالیسیوں اور جمہوریت کی عسکریت پسندی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے"۔
لاس اینجلس میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں ٹرمپ کی جانب سے فوج کی تعیناتی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ یہ اقدام مہاجرین کے خلاف کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اس فوجی پریڈ کو "منفرد" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو "زبردست طاقت" سے نمٹا جائے گا۔
پریڈ کی راہ میں ممکنہ رکاوٹ
ٹرمپ نے کہا کہ موسم کی خرابی اُن کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہفتے کے روز طوفانی بارشوں کی پیش گوئی ہے، تاہم امریکی فوج نے جمعہ کو بیان میں کہا کہ "موسم کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور فی الحال پریڈ کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی"۔
صدر ٹرمپ نے کہا: "بارش سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ ٹینکوں پر اور نہ ہی سپاہیوں پر۔ یہ سب عادی ہیں، یہ طاقتور لوگ ہیں"۔
عظیم الشان پریڈ کی تفصیلات
یہ پریڈ خلیج جنگ 1991 کے بعد امریکہ کی سب سے بڑی فوجی نمائش ہے۔ تقریباً 7000 فوجیوں نے امریکی تاریخ کے مختلف ادوار کی وردیوں میں شرکت کی۔
پریڈ میں 50 سے زائد ہیلی کاپٹرز، بشمول جنگی ہیلی کاپٹرز "اپاچی"، "شینوک" اور "بلیک ہاک" شامل تھیں۔ اس کے علاوہ 150 کے قریب فوجی گاڑیاں جن میں 28 "ابرامز" جنگی ٹینک اور 56 بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں بھی پریڈ کا حصہ بنیں۔
پریڈ کا اختتام "گولڈن نائٹس" پیراشوٹ ٹیم کے فلائنگ شو سے ہوا، جس میں امریکی جھنڈا صدر ٹرمپ کو پیش کیا گیا۔ یہ قافلہ تاریخی یادگاروں جیسے لنکن میموریل اور واشنگٹن یادگار سے گزرتا ہوا وائٹ ہاؤس کے قریب اختتام پذیر ہوا۔
پیرس کے خواب سے واشنگٹن تک
صدر ٹرمپ کا فوجی پریڈ کا خواب 2017 میں فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کی دعوت پر پیرس میں قومی دن کی فوجی پریڈ میں شرکت کے بعد جاگا تھا، جسے اب انہوں نے واشنگٹن میں حقیقت میں بدل دیا۔
تنقید اور مخالفت
تاہم ان کے ناقدین اس پریڈ کو "انا کی تسکین" قرار دے رہے ہیں۔ "نہیں بادشاہت" تحریک کے منتظمین کے مطابق، ملک بھر کے 1500 شہروں میں لاکھوں افراد ان مظاہروں میں شرکت کریں گے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے، جنہوں نے لوس اینجلس میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہا کہ یہ "کمزور قیادت کا بھونڈا مظاہرہ ہے"۔
لوس اینجلس میں مظاہرین نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف 25 ہزار افراد کی شرکت کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔
-
اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ’بے معنی‘ ہیں: ایران
ایران کا واشنگٹن پر حملے کی حمایت کا الزام
بين الاقوامى -
امریکہ اسرائیلی حملوں میں شریک ہے: اقوامِ متحدہ میں ایران کا الزام
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران نے اسرائیلی حملوں میں امریکہ کے شریک اور ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کے دفاع سے باز رہا جائے، تہران نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو خبردار کردیا
ایران نے باضابطہ طور پر فرانس، برطانیہ اور امریکہ کو مطلع کیا کہ وہ اسرائیل کے ...
بين الاقوامى