’سعودی عرب کے انس جن کی معذوری ہی ان کی کامیابی کا سبب بنی‘

’معذوری سے بااختیار بننے تک‘ کاسفر۔ ریاض کتاب میلے میں ایک نوجوان کی ایک متاثر کن کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری بین الاقوامی کتاب میلے میں ایک ایسے باہمت سعودی نوجوان اور اس کی کتاب کے بھی چرچے ہیں جس نے اپنی جسمانی معذوری کو اپنی ترقی اور خود کو با اختیار بنانے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

سعودی نوجوان انس الترکی کے لیے 2013ء کو پیش آنے والا حادثہ اس کے لیے مایوسی کا سبب نہیں بن سکا۔ اس کی کتاب’ثق باللہ‘ [اللہ پربھروسہ کیجیے] ریاض کے کتاب میلے برائے سال 2022ء کی بہترین کتابوں میں سے ایک قرار دی جاتی ہے۔

انس الترکی کی معذوری کی کہانی سنہ 2013ء میں اس وقت شروع ہوئی جب سمندر میں کشتی پر سوار ہونے کے بعد اسے حادثہ پیش آیا۔ س حادثےکے نتیجے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے۔ مگرانس کی ایمانی طاقت اور قوت ارادی بہت مضبوط ہے۔

اس نے اپنی متاثر کن کہانی بحالی اور علاج سے شروع کی۔ وہ بات چیت سے قاصر تھا، اس کے صرف ہونٹ اور آنکھیں ہی حرکت کرتی تھیں۔ مگراس نے رابطہ کاری کےمتبادل طریقے تخلیق کیے۔ بالآخر معذوری کے مرحلے سے بااختیار بننے تک کا سفر کامیابی سےطے کرلیا۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق انس الترکی اپنے چہرے کے خدوخال سے دھیرے دھیرے اظہار کرنے لگا اور اپنے ہاتھ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے جذبات بیان کرنا شروع کیے۔ اس نے اپنی ایک زبان بنائی۔ اپنی ماں کی مدد سے انس نے پڑھنا لکھنا شروع کیا۔ آج وہ یونیورسٹی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کا ہونہار طالب علم اور پروگرامر ہے۔ وہ اپنے ہم عمروں میں حافظ قرآن کریم بھی ہے، انگریزی اور عربی زبانوں کا ماہر اور ایک متاثر کن مصنف اور صاحب تصنیف بھی ہے۔

اس نے اپنی والدہ کی پروگرامنگ اور ایک الیکٹرانک ایپلی کیشن تیار کرنے میں مدد کی جسے "سمارٹ عربی اسپیکر" کہا جاتا ہے۔ جو ذہانت سے بول سکتا ہے۔ اس میں بہت سی خصوصیات ہیں جیسے کہ کسی جملے کو محفوظ کرنا یا کوئی تصویر جسے بولنے کے لیے کلک کیا جاتا ہے۔

یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ صارف مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا کہے گا؟۔اس ایپلیکیشن کو ایک چیریٹی ٹیکنیکل انڈومنٹ بنانے کے لیے جسے سمارٹ ڈیوائسز پر ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ یہ معذور افراد، آٹسٹک بچوں اور بوڑھوں کو اس کے بارے میں اظہار خیال اور بات کرنے کے قابل بنانے میں معاون ہے۔

اس نے اپنی والدہ کے ساتھ ایک خیراتی تنظیم کے قیام میں بھی حصہ لیا جس کا نام "تواصول ایسوسی ایشن فار اسسٹیو ٹیکنالوجیز فار پیپل ود ڈس ایبلٹیز" رکھا گیا۔

یہ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت کی طرف سے اور مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کی تکنیکی نگرانی کے تحت منظور شدہ تنظیم ہے۔ اس کا مقصد معذور افراد کے لیے معاون ٹیکنالوجیز فراہم کرنے اور انہیں پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں کے قابل بنانا ہے۔

رکاوٹیں اور چیلنجز

اپنی والدہ ہمراہ "ایس پی اے" کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا علاج اور بحالی میں بڑی رکاوٹوں اور چیلنجوں سے گذرا، لیکن اس کا خدا پر بھروسہ بہت زیادہ ہے اور اس کا پختہ عزم، اس کے علاوہ اس کی طرف سے فراہم کردہ مدد اور عظیم سہولیات کے علاوہ مملکت نے انس کو اپنی کتاب لکھنے کے قابل بنایا جس میں وہ اپنی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس کو معاون ٹیکنالوجیز جیسے شیشے اور ٹیبلٹس کے ذریعے لکھنے اور پرنٹنگ کے لیے پبلشنگ ہاؤس کو مواد بھیجنے پر کام کیا تاکہ اس کے بلند پیغام کو پھیلایا جا سکے کہ زندگی نہیں رکتی۔ کوئی بھی مسئلہ ہو ہر ایک کو اللہ تعالی پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اپنے خوابوں اور عزائم کو حاصل کرنے کے لیے جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر کام کرنا چاہیے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ آج مملکت میں ڈیجیٹائزیشن کا دور ہے۔ یہ ایک بہت بڑی ترقی ہے اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول کا ذریعہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں