امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ ریاض واشنگٹن کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔ اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد بھی واشنگٹن کا سعودی عرب سے اپنی افواج کو نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی عہدیدار نے مزید کہا ہے کہ ہمارا اوپیک پلس کی پیداوار میں کمی کے تناظر میں سعودی عرب سے اپنی افواج کو منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ بہت سے مشترکہ مفادات ہیں جو ہمیں متحد کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ مستقل بنیادوں پر مختلف مسائل پر بات چیت کرتے ہیں ۔ سعودی عرب ہمارے لیے اہم شراکت دار ہے ۔
مشيرا إلى أن المملكة شريك مهم للولايات المتحدة.. نائب المتحدث باسم الخارجية الأميركية: لا خطط لدى #واشنطن لنقل قواتها من #السعودية عقب قرار أوبك بلاس#العربية pic.twitter.com/uEUJcw8koU
— العربية (@AlArabiya) October 6, 2022
جمعرات کو امریکی صدر جو بائیڈن نے اوپیک پلس ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے اعلان کردہ منصوبوں پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ اس کے لیے دستیاب متبادل کا مطالعہ کر رہا ہے۔
اوپیک پلیس گروپ نے بدھ کو پیداوار میں تیزی سے کٹوتیوں پر اتفاق کیا تھا۔ اس کا مقصد پہلے سے ہی سخت رسد میں موجود مارکیٹ میں سپلائی کو مزید سخت کرنا تھا ۔ اوپیک کے فیصلے کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھ گیا۔ وسط مدتی الیکشن میں بائیڈن کے ڈیموکریٹس ایوان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت کا دفاع کر رہے ہیں۔