العربیہ خصوصی رپورٹ

سعودی معاشرے میں ’شخصی آزادی‘ اور ’انفرادیت‘ کی بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 12 منٹ

سعودی عرب میں معاشرہ ثقافتی، طرز عمل اور قانون سازی کے اعتبار سے جن تیز رفتار تبدیلیوں سے گذر رہا ہے وہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں محسوس کی جا رہی ہیں جب مملکت کا ’وژن 2030‘ بھی محض سات سال کی دوری پر ہے۔

ایسے میں مذہبی اور شہری ایلیٹ کلاس کے درمیان ’شخصی آزادیوں‘ اور ’انفرادیت‘ کی بحث جاری ہے۔ یہ بحث ذاتی آزادی اور انفرادی زندگی میں کسی شخص کے اپنے انتخاب کے مطابق زندگی گذارنے کا حق ہے۔ تاہم یہ آزادی قانون کے دائرےکے اندر رہتے ہوئے میسر ہے اور خلاف قانون کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں۔

شخصی اور انفرادی آزادیوں کی بحث سعودی عرب کے ہر شہر میں مختلف ہے۔ اسی طرح اس کی مقامی سطح پر تفصیل بھی مختصر اور مختلف ہے۔ مقامی سطح پر شخصی اور انفرادی آزادیوں کی بحث میں حصہ لینے والے مختلف اور کہیں متضاد آراء بھی رکھتے ہیں۔

ایک گورنری اور شہر میں لوگوں کی رائے دوسرے شہر اور گورنری سےمختلف ہو سکتی ہے۔ یہ فطری امر ہے اور اختلاف رائے ہر قوم اور طبقے میں بہ درجہ اتم پایا جاتا ہے۔ ان میں بنیاد پرست اور متشدد بھی ہوتے ہیں اور اعتدال پسند بھی۔ یہ بنیاد پرست اپنے پرانے اصولوں اور روایات پر اڑے رہتے ہیں اور مضبوط روایات پرقائم اصولوں میں رخنہ پڑنےسے خوف زدہ ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ صدیوں سے اپنائی گئی اقدار اور مذہبی روایات کوتبدیل کرنے سے ڈرتے ہیں اور اپنی نسلوں سے چلی آ رہی مذہبی روایات کو اپناتے ہیں۔ کچھ لوگ عصری اقدار کے حوالے سے کھلے دل و دماغ کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ لوگ زندگی کی تبدیلیوں اور ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں۔ ارتقاء کی مزاحمت کرنا معاشرے کو مزید جمود اور بند گلی کی طرف لے جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ تہذیب وتمدن میں مثبت ارتقاء دین کےمتصادم اور خلاف ہرگز نہیں ہوتا۔

قطیف کی مثال

مشرقی سعودی عرب میں القطیف گورنری کو جاری مُکالمے کی ایک مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے، چاہے وہ کونسلوں میں ہو یا فورمز میں ہو، یہاں تک کہ سوشل میڈیا میں اکثر اختلاف رائے کی عکاسی کی جاتی ہے۔ احترام کے دائرے میں سعودی شہریوں میں اختلاف رائے کے اعتبار سے قطیف کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔

قطیف میں کئی تمدنی مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں، خاص طور پر صوبے کے اہم شہروں میں قطیف، سیھات اور صفوا میں پرکشش ڈیزائنوں، مسابقتی خدمات اور تفریح کے کئی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ جدید کیفے پھیلے ہوئے ہیں۔

ان میں سے بہت سے کیفے اور ریستوراں نوجوان مردوں اور عورتوں کے ساتھ ساتھ خاندانوں سے بھرے ہوتے ہیں، جو بیٹھ کر کافی پینے، کھانا کھانے، یا ہکا پینے، میزوں کے درمیان رکاوٹوں کے بغیر موسیقی سننے میں مشغول ہوتے ہیں۔

ہمسایہ شہروں جیسے کہ الخبر اور ظہران میں ایک بہت ہی جانا پہچانا اور معمول کا منظر دیکھا جاتا ہے۔ یہ دارالحکومت ریاض اور جدہ جیسے بڑے شہروں میں روزمرہ کا رویہ ہے۔ شہریوں کے اس طرز عمل اور نسبتاً کھلے پن کو کچھ "مبلغین" اور "قدامت پسند" تحریک سرخیل ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان کے خیال میں اس طرح کی مخلوط محافل اور موسیقی ’شرمناک‘ اعمال ہیں مگر دوسری طرف ان کو پسند کرنے والے بھی موجود ہیں جو ان عادات کو دوسرے لاکھوں سعودی شہریوں کی عادات اور روز مرہ زندگی کے مطابق قرار دیتے ہیں۔

راقم کا خیال ہے موسیقی، مخلوط مقامات اور لڑکیوں کو ان کے مطابق لباس پہننے کی آزادی اور دیگر سماجی رویے ایک بڑے بنیادی مسئلے کے لیے صرف معمولی عنوانات ہیں۔ یہ فقط "ذاتی آزادیوں" کے تصور کا نظریہ ہے۔

قدامت پسند مذہبی مبلغین اسے کس حد تک قبول کرتے ہیں کیا وہ مبلغین کی گفتگو اور دانشوروں کے پیش کردہ نکات پر کی جانے والی تنقید سے نرمی سے نمٹ سکتے ہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔

جزا اور سزا

ایک سعودی مذہبی اسکالر فوزی السیف کا ایک لیکچرز پر بحث ہے جس کا عنوان ہے "دلیل اور آزادی کی غلط فہمی"۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ "آپ ایک آقا کے ماتحت آزاد ہیں اور آپ کو انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آپ کے انتخاب پر سزا دی جاتی ہے یا نہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آپ انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن اگر آپ نے اس طرف کا انتخاب کیا تو قیامت کے دن سخت عذاب ہو گا"۔ یہ سوچنا ہے کہ آزادی کہاں ہے، ایک شخص کو کب آزاد سمجھا جائے؟ وہ یہ راستہ اختیار کرے یا وہ راستہ۔ اس کا فیصلہ وہ خود کرے گا۔

لہٰذا الشیخ السیف جزا و سزا کے دوہرے پن کی بنیاد پر خالصتاً کلاسیکی مذہبی نقطہ نظر سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایک شخص کے لیے شرعی احکام پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق اس کے رویے کو منظم کیا جانا چاہیے!

مجرموں کی توہین

اپنی تجویزمیں علامہ السیف اگرچہ روایتی انداز میں چلتے ہیں لیکن یہ "زبردستی" یا ان لوگوں کے خلاف جبر کے عمل کی طرف نہیں جاتی جو ان کی رائے میں اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ ماجد السادہ جیسی دیگر مذہبی شخصیات کی طرف سے اختیارکی گئی رائے کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔

ماجد السادہ اپنے نظام اقدار کے باہر سے آنے والی کسی بھی رائے کے خلاف ایک ٹھوس خانے میں کھڑے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ "لبرل لوگ علماء اور ان کے مذہبی رجحانات سے کیوں لڑتے ہیں؟۔ محض اس لیے کہ ان کے مذہبی معاشرے ان کو اور اقدار جو وہ اخلاقی انحطاط کا باعث بنتی ہیں اپنائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا وہ ایسے معاشرے میں اپنے لیے کوئی مقام اور قدر نہیں پاتے جو اس کے علما کے کلام اور ان کے رجحانات کو اہمیت دیتا ہے۔

اپنی تجویز میں علامہ السادہ معاشرے کو "مبلغین" کی گفتگو کے وفادار پیروکار کے طور پر پیش کرتے ہوئے "مبلغین" کے اختیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کہ جو لوگ راستے سے ہٹ جاتے ہیں وہ ایک قلیل تعداد میں ہیں جن کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ غور و فکر صرف علماء کے "لفظ" کو دیا جاتا ہے۔

لہٰذا یہاں فوزی السیف کی تجویز کی ایک مختلف مثال ہے۔ اگرچہ السادہ اور السیف کا تعلق "مذہبی علماء" کے ایک ہی زمرے سے ہے لیکن ان کے انداز اور تجویز میں فرق ہے، جو ان کی گفتگو کے الفاظ سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔

وصایہ کا تقدس

عالم دین ضیا الخباز کا خیال ہے کہ "جدیدیت پسند اکثر مذہب پر اپنی تنقید میں بدگمانی اور دھوکہ دہی کے طریقہ کار کا سہارا لیتا ہے، تاکہ مذہب اور مذہبی لوگوں سے براہ راست ٹکراؤ نہ ہو، خاص طور پر مذہبی معاشروں میں وہ اس کا سہارا لیتا ہے اور ایک عنوان کا انتخاب کرتا ہے۔ اسے مسخ کرنے اور بدنام کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔اس کے حوالے سےرائے عامہ کو گمراہ کرتا ہے"۔ مثال کے طور پر "ان میں سے کچھ نے عنوان [وصایہ] ’سرپرستی‘ کو بگاڑنے اور الگ کرنے کی کوشش کی، پھر ہوشیار طریقے سے اشارہ کیا کہ اس کا اطلاق ’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘ پرہوتا ہے۔ یہ سب سے اہم الٰہی فرائض میں سے ایک کو کم کرنے کا ایک چالاک طریقہ ہے۔اس کے کردار اور اس کی تاثیر کو کم کرنے کی کوشش ہے۔

یہاں علامہ خباز اور السادہ انہی بنیادوں پر اکھٹے ہو جاتے ہیں جو تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ دونوں عام لوگوں پر مبلغین کے خطابات کے محدود اثرات کے بارے شبے کا شکار ہیں۔ "وصایہ" کے معنی پر جاری تنقید اور اس کا رد جس کے ساتھ خود مذہبی اور قدامت پسند حلقوں میں بھی ہوا میں یہ دونوں الگ رائے رکھتے ہیں۔

الخباز نے اسی تبصرے میں جو انہوں نے "انسٹاگرام" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا روشن خیال دانشوروں سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ " ہم کیا کریں جب آرکونی اور شحروری ثقافت جدیدیت پسند ذہن پر حاوی ہو۔" محمد ارکون اور محمد شحرور جن کی طرف موصوف اشارہ کر رہے ہیں کے مذہبی نظریات پر وسیع پیمانے پر دینی حلقوں کی طرف سے تنقید کی جا چکی ہے۔

اختلاف رائے کو قبول کرنا

چوتھے نقطہ نظر نے منظر کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جنوری کے اوائل میں جمعہ کی نماز کے خطبہ میں الشیخ حسن الصفار نےکہا کہ "عقلی شعبوں اور سماجی کاموں میں لوگوں کے درمیان نقطہ نظر کا اختلاف فطری ہے۔"

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی فریق پر عدم اعتماد کرنا اور الزام لگانا، یا کسی حتمی ثبوت کے بغیراس پر فریب ، بدعت، بغض وعناد یا برے مقصد کا الزام تھوپنا درست نہیں ہے۔" نقطہ نظر کسی بھی مسئلے یا مسئلے کی جانچ پڑتال میں سائنسی اور معروضی اعداد و شمار کی دستیابی سے ممکن ہے لہذا جس کے پاس زیادہ معلومات ہے اس سے اختلاف ہوسکتا ہے۔

الصفار معاشرے کے اندر ثقافتی تکثیریت کو ایک درست کام کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس سے بغیر کسی ہنگامے یا تصادم کے نمٹا جانا چاہیے، بلکہ مختلف آراء کو قبول کرنا اور احترام کے ساتھ دوسرے کی آرا کو قبول کرنا چاہیے۔

جنونیت سے اجتناب

الشیخ حسین علی المصطفیٰ کہتے ہیں کہ "سماجی اور فکری آزادی کے تصور کے بارے میں قطیفی برادری میں جاری بحثیں اہم بحثیں ہیں۔ کسی کو ان سے گھبرانا یا خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ مختلف آراء مختلف افراد کے درمیان مکالمہ ہے جو نئے تصورات کی تعمیر کا باعث بنتا ہے۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور انسان کی تکمیل کا ذریعہ ہوتا ہے۔

علامہ المصطفیٰ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں حسینی منبر پر موجود مبلغین سے کہا کہ وہ اپنی تقریر کو "لوگوں کے قریب کریں ان کی دینی علوم کی ضروریات پوری کریں۔خود کو ان سے برترنہ سمجھیں۔ لڑائی جھگڑے اور سختی سےاجتناب کریں۔لوگوں کو موعظ حسنہ اور اچھے کلام کے ساتھ خدا کی طرف بلانے کی ضرورت ہے۔

معاشرے میں رویے کی تبدیلیوں کے بارے میں، المصطفیٰ کا خیال ہے کہ یہ "انتہائی فطری تبدیلیاں ہیں، جو زندگی کے دھارے سے مطابقت رکھتی ہیں، چاہے ہم اسے ان تمام چیزوں میں پسند کریں یا نہ کریں۔ ہمیں گھبراہٹ اور نفرت کے ساتھ اس کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہمیں لوگوں کے درمیان طرز زندگی کے تنوع کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جدید دور میں کوئی شخص اس طرح نہیں رہ سکتا جس طرح ہم 20 سال پہلے رہتے تھے۔ اس لیے یہ تبدیلیاں تمام بُری نہیں ہیں جیسا کہ بعض نے پیش کیا ہے، بلکہ یہ معاشرے کے لیے مزید تطہیر، ترقی اور احترام کا باعث بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ"خواتین کے مسئلے کو ایک بڑی چھڑی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیئے جسے وہ معاشرے کے سامنے لہراتی ہیں۔ یہ تاثر پیدا نہیں کرنا چاہیے کہ خواتین برائیوں کی جڑہیں۔ معاشرتی ترقی، خاندان بہبود، محبت اور ثقافتی ارتقا خواتین کے بغیر ممکن نہیں اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں یہ تمام چیزیں ایمان کمزور کرتی ہیں۔

سماجی اور مذہبی گفتگو پر تنقید کے بارے میں حسین علی المصطفیٰ نے کہا کہ تنقید ہر کسی کی طرف سے ہونی چاہیے جس کا مقصد لوگوں کی فکری اور سماجی بیداری کو بڑھانا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیکچرز میں کئی مواقع پر یہی بات دہرایا کرتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں