ترکیہ زلزلہ

افغان طالبان کے امدادی گروپ کا ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کے لیے 50 ہزارڈالرکاعطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افغان طالبان کے زیرانتظام ایک امدادی تنظیم نے ترکیہ میں زلزلے کے متاثرین کے لیے 50 ہزار ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔ طالبان کے نمائندے نے پلاسٹک کے تھیلے میں یہ رقم کابل میں ترک سفیر کے حوالے کی ہے۔

افغان ہلال احمر سوسائٹی (اے آر سی ایس) کے صدر مولوی مطیع الحق خالص کو کابل میں ترک سفیرجہاد ایرگینے کو پلاسٹک کا تھیلا تھماتے ہوئے تصویر کھینچی گئی ہے۔مولوی خالص قطر میں امریکا سے مذاکرات کے دوران میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن تھے۔انھیں 2021 میں اے آر سی ایس کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔

بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں انرجی ڈرنک برانڈ کی تصویروالے پلاسٹک بیگ میں 50,000 ڈالر (4.5 ملین افغانی) تھے۔

اے آر سی ایس کے ایک بیان میں مولوی خالص کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ترکیہ افغانستان کا ایک ہمدرد اوردوست ملک ہے جس نے ہمیشہ مشکل حالات میں افغان عوام کی مدد کی اور ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں طالبان حکومت نے ایک بیان میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پرترکیہ اور شام سے تعزیت کا اظہارکیا تھا۔دونوں ملکوں میں اب تک 41 ہزار سے زیادہ اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

طالبان انتظامیہ نے ترکی کےلیےایک لاکھ 10 ہزار ڈالراور شام کے لیے 55 ہزارڈالر کے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں