سعودی عرب کی قیادت نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو راس لفان کے صنعتی علاقے کی ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے پر تعزیت اور ہمدردی کا پیغام بھیجا ہے۔
خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "ہمیں قطر کے صنعتی علاقے راس لفان کی ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں خبر ملی ہے۔ ہم آپ، جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں اور برادر ملک قطر کے عوام سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ مرحومین کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اور قطر کے عوام کو ہر قسم کے برے حالات اور تکلیف سے محفوظ رکھے۔ یقیناً وہ سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے۔"
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "مجھے قطر کے صنعتی علاقے راس لفان کی ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور زخمیوں کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ میں آپ اور تمام لواحقین سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ مرحومین پر رحمت فرمائے اور تمام زخمیوں کو جلد شفایابی عطا کرے۔"
اس سے قبل سعودی وزارت خارجہ نے بھی راس لفان صنعتی علاقے میں ہونے والے اس دھماکے پر قطر کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب برادر ملک قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور اس حادثے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہتا ہے، نیز جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔