سعودی عرب کا یوم تاسیس آج 22 فروری کو منایا جا رہا ہے۔ اس عظیم مملکت کی تعمیر کا سفر تین صدیاں قبل اس کے دارالحکومت درعیہ سے امام محمد بن سعود نے 1139ھ/1727ء میں شروع کیا تھا۔
درعیہ کی امارت سنبھالنے کے بعد امام محمد بن سعود نے اپنی اور آس پاس کی دیگر امارتوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا بالخصوص جزیرہ نما عرب کے مرکز کا اور مروجہ نظام میں موثر تبدیلی کی منصوبہ بندی شروع کی۔
ان کے اقدامات سے اس خطے کی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو جس کے نمایاں خطوط نمائندگی ،اتحاد، تعلیم اور ثقافت اور سلامتی تھے۔
امام محمد بن سعود کون ہیں؟
امام محمد بن سعود بن محمد بن مقرن 1090ھ / 1679ء میں پیدا ہوئے، وہ "الدرعیہ" میں پلے بڑھے اور اپنی منفرد خصوصیات مثلاً دینداری ، ہمت اور ہر دلعزیزی کے لیے مشہور تھے۔
ان کے والد الدرعیہ کے امیر تھے۔ امام اوائل عمری ہی سے اپنے والد کے ساتھ کام کرنے لگے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ وہ اس تجربے سے آگے چل کر اس امارت کی قسمت بدل دیں گے۔
نوجوانی ہی میں امام نے "دریہ" کے دفاع میں حصہ لیا ۔ جب الاحساء میں بنی خالد کے سردار سعدون بن محمد نے حملہ کیا تو امام نے انتہائی ثابت قدمی سے جارح فوج کو شکست دی۔
امام محمد بن سعود اپنے آباؤ اجداد کی کامیابیوں کا تسلسل تھے جنہوں نے الدرعیہ امارت قائم کی ، اس پر حکومت کی، اور اسے مدینہ کی چھوٹی ریاست سے ایک وسیع ریاست میں تبدیل کیا۔
انہوں نے 1139 ہجری (فروری 1727) کے وسط میں غیر معمولی حالات میں اقتدار سنبھالا۔ اس وقت الدرعیہ مختلف وجوہات اور قبائل کے آپس کے اختلافات کے باعث کمزوری اور تقسیم کا شکار تھا، اسی عرصے کے دوران جزیرہ نما عرب میں طاعون کی بیماری پھیل گئی، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔
ان تمام چیلنجوں کے باوجود امام محمد بن سعود ان پر قابو پانے، الدرعیہ کو متحد کرنے، اور العرید کے علاقے تک استحکام پھیلانے میں کامیاب رہے۔
استحکام کا قیام
ان کے دور حکومت میں پہلی سعودی مملکت چالیس سال کے دوران قائم، متحد اور تعمیر ہوئی۔
1139/1158 ہجری( 1727/1745 عیسوی) کے دوران ان کی نمایاں ترین کامیابیوں میں الدرعیہ کے دونوں حصوں کا اتحاد تھا۔
اس کے علاوہ داخلی امور کی دیکھ بھال ، الدرعیہ کے عوام کو مضبوط کرنا اور اراکین کو متحد کرنا، امارت کے اقتصادی امور کو منظم کرنا، اور سمہان میں ایک نئے علاقے کی تعمیران کے اہم کارناموں میں شامل ہے۔
اتحاد کی مہم کا آغاز
امام محمد بن سعود نے 1159/1179 ہجری بمطابق 1746/1765 عیسوی کے دوران جو سب سے نمایاں اقدامات کیے، ان میں نجد کے علاقے میں اتحاد کی مہمات کا آغاز ، جزیرہ نما عرب کے بیشتر حصوں میں ریاستی خبریں پہنچانا، حج اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہے۔ یہاں تک کہ نجد کا شمار محفوظ ترین علاقوں میں ہوتا تھا۔
امام محمد بن سعود نے ریاست کی بنیاد رکھنے کے چالیس سال بعد 1179ھ / 1765ء میں وفات پائی۔ ان کی اولاد میں چھ بیٹے عبد العزیز، عبداللہ، سعود، فیصل، علی، اور مرخان، اور بیٹیاں حیا اور ترفہ تھیں۔
-
سعودی عرب کے یوم تاسیس پر "شاہینوں" کا جبیل کی فضا میں دلکش ایئرشو
سعودی عرب کے یوم تاسیس کے موقع پر "سعودی فالکنز" ٹیم نے مشرقی سعودی عرب کے شہر ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کے "یوم تاسیس" پر اثراء کلچرل سینٹرکے زیراہتمام رنگا رنگ تقریبات
شاہ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثراء) ظہران میں سعودی عرب کے مشرق میں مملکت ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا یوم تاسیس، عالمی رہنماؤں کے تہنیتی پیغامات
سعودی عرب میں آج یوم تاسیس منایا جارہا ہے۔ ملک بھر میں اس دن کی مناسبت سے تقریبات ...
مشرق وسطی