ریاض میں ’’مسجد القبلی‘‘ کی رونق لوٹ آئی، قدرتی مواد سے دوبارہ تعمیر کیا گیا

یہ مسجد شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کو بحال کرنے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ریاض شہر کے قدیم ترین محلوں میں سے ایک ’’منفوحہ‘‘ بھی ہے۔ اسی محلے میں ایک 300 سال سے زیادہ قدیم ’’ مسجد القبلی‘‘ ہے۔ ’’مسجد القبلی ‘‘ کو 1100 ہجری میں تعمیر کیا گیا تھا۔ سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز نے سن 1364 ہجری میں اس مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ مسجد قصر شاہی کے قریب ترین مسجد ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اس مسجد کو بھی شامل کرلیا گیا اور اس کی تعمیر اور تزئین کی گئی ہے۔ حالیہ ترقی و توسیع کے بعد اس مسجد کا رقبہ 804.32 مربع میٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اس مسجد کو نجدی انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس طرز تعمیر میں مٹی کی تعمیر کی تکنیک اور قدرتی مواد کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ مقامی ماحول اور گرم صحرائی آب و ہوا سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ نجد طرز کی تعمیر مقامی ثقافت کے تقاضوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

نجدی طرز تعمیر

ایک ایسے وقت میں جب مسجد القبلی کی دیکھ بھال کے کام کی تکمیل کے بعد اس میں 440 نمازیوں تک کی گنجائش پیدا ہو جائے گی ایسی تاریخی مسجد کو نجدی طرز میں تعمیر کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا۔ مسجد کے ارد گرد لکڑی کا نادر طریقے سے استعمال کیا گیا ۔ اس مصنوبے میں لکڑی کا مطلوبہ معیار فراہم کیا گیا۔ لکڑی کو درست طور پر تیار کرنا اور سیدھا کرنا ایک مہارت والا کام ہے۔ اس طریقہ سے کام کیا جاتا ہے کہ نقصان نہ پہنچے اور لکڑی کو کیڑوں سے ہونے والے نقصان کو روکنے کا بھی علاج کیا جائے۔

ریاض کے محلے المفنوحہ میں قدیم مسجد القبلی
ریاض کے محلے المفنوحہ میں قدیم مسجد القبلی

پرنس محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبے پر کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق مسجد کو فراہم کرنے سے قبل تیار کیے جانے والے پرزوں کی پیمائش کی جاتی ہے اور انہیں سائٹ پر تیار کیا جاتا ہے۔ لکڑی کو روایتی طور پر شکلیں بنانے کے لیے تیز دھار مواد کا استعمال کرتے ہوئے سجایا جاتا ہے۔ کافی تکلیف دہ اور محنت طلب مراحل سے گزر کر یہ منصوبہ تاریخی مساجد کی تعمیراتی روایات کو بحال کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل ہوا۔ مساجد کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں عوامی بیداری کو بڑھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ

مسجد القبلی شہزادہ محمد بن سلمان کے دوسرے مرحلے میں تاریخی مساجد کو تیار کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس مرحلے میں مملکت کے تمام 13 خطوں کی 30 مساجد کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاض کے علاقے کی 6 مساجد، مکہ مکرمہ ریجن کی 5 مساجد، مدینہ منورہ کی 4 مساجد شامل ہیں۔ ۔عسیر کے علاقے سے 3 مساجد، الشرقیہ ریجن سے دو مساجد، الجوف اور جازان سے دو مساجد ، الشمالی سرحدوں، تبوک، الباحہ، نجران، حائل اور القصیم میں ایک ایک مسجد کو بحال کیا جارہا ہے۔

تین سو سال قدیم مسجد القبلی کا اندرونی منظر
تین سو سال قدیم مسجد القبلی کا اندرونی منظر

تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ قدیم اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان توازن قائم کرکے کام کرتا ہے۔ اس سے مساجد کے حصوں کو مناسب حد تک پائیداری ملتی ہے۔ یہ منصوبہ ترقی کے اثرات کو ورثے کے ایک سیٹ کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔

تاریخی مساجد کی ترقی کا منصوبہ

واضح رہے کہ تاریخی مساجد کے ترقیاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے سے قبل پہلے مرحلے کا آغاز سال 2018 میں ہوا تھا۔ اس مرحلے میں 10 علاقوں کی 30 تاریخی مساجد کی تعمیر و ترقی اور بحالی شامل تھی۔ اس منصوبے کے چار سٹریٹجک مقاصد ہیں۔ پہلے نمبر پر عبادت اور نماز کی ادائیگی کے لیے تاریخی مسجد کو بحال کرنا ہے۔ دوسرا تاریخی مساجد کی تعمیراتی صداقت کو بحال کرنا ہے۔ تیسرا سعودی عرب کی تہذیبی جہت کو اجاگر کرنا ہے۔ چوتھے مقصد میں یہ منصوبہ سلطنت کی ثقافتی اور تہذیبی جہت کو اجاگر کرنے میں تعاون کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں