شہزادہ محمد بن سلمان پروجیکٹ کے تحت 900 سال قدیم مسجد ’’ ابو عنبہ‘‘ کی بحالی

سعودیہ میں تاریخی مساجد کی بحالی منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں 30 مساجد کی آرائش کی جارہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں شہزاد محمد بن سلمان پروجیکٹ کے تحت 900 سال قدیم مسجد ’’ ابو عنبہ‘‘ کو بھی بحال کردیا گیا۔ تاریخی مساجد کی بحالی منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں 30 مساجد کی تزئین و آرائش کی جارہی ابو عنبہ مسجد کو جدہ گورنریٹ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس مسجد کو 544 ہجری سے بھی پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا نام ’’ ابو عنبہ‘‘ اس بنا پر رکھا گیا تھا کہ مسجد کے قریب ایک انگور کا باغ تھا جس اس مقام پر موجود کنویں کے پانی سے سیراب کیا جاتا تھا۔ مسجد میں اپنی تعمیر سے لیکر تاحال نمازوں کی ادائیگی جاری ہے۔

اپنی قیمتی تاریخ کی وجہ سے ’’ ابو عنبہ‘‘ مسجد کو شہزادہ محمد بن سلمان کے پراجیکٹ میں شامل کیا گیا۔ اس طرح 900 سال قدیم اس شہری ورثہ کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

منصوبے کا مقصد سعودی عرب کی اسلامی تہذیب کو نمایاں کرنا اور تاریخی مقامات کی زندگی کو بحال کرنا ہے۔ اسی طرح ایسے انسانی، ثقافتی اور فکری ماحول کی تشکیل دینا ہے جس میں تاریخی اور سماجی اثرات نمایاں ہوں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبہ میں ’’ابوعنبہ‘‘ مسجد کو سعودی عرب کے مغربی علاقے کے طرز تعمیر کے مطابق بحال کیا جارہا ہے۔ مسجد کے اگلے حصے میں راوشین اور مشرابیاں ہیں جس میں آگے نکلی ہوئی کھڑیاں اور بالکونیاں ہوتی ہیں۔ ان کھڑکیوں اور اور بالکونیوں میں لکڑی کے پینل استعمال کیے گئے ہیں۔ بیرونی سوراخوں کو ڈھانپنے کے لیے لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے براہ راست سورج کی روشنی کو روکا جاتا اور مسجد کے درجہ حرارت کو ٹھندا رکھا جاتا ہے۔

یہ عمارت ساحل پر ارد گرد کے قدرتی حالات کا مقابلہ کرنے والے سعودی مغربی خطے کے تعمیراتی انداز کی خصوصیت رکھتی ہے۔ اس میں موجود تاریخی مساجد فن تعمیر کے شاہکار ہیں جو مولڈ اینٹوں، جپسم اور لکڑی پر مشتمل ایک وسیع عمارتی ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں۔ چودھویں صدی ہجری کے اوائل کی مساجد میں سامنے کے حصے کے ڈیزائن میں لکڑی کا عنصر کا غلبہ ہے۔

تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ قدیم اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان توازن کو اس طرح حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے مساجد کے اجزاء کو مناسب حد تک پائیداری بھی مل جائے۔ ترقی کے اثرات کو ورثے کے ایک سیٹ کے ساتھ مربوط کیا جارہا ہے۔ تاریخی مساجد کی بحالی منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں میں 30 مساجد کی تزئین و آرائش کرکے انہیں نئے سرے سے بحال کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل شہزادہ محمد بن سلمان کے اس پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 10 خطوں کی 30 مساجد کو بحال کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں