پینٹنگ اور مجسمہ سازی میں ماہر سعودی مصورہ ’’امل علم‘‘ کا انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی پلاسٹک آرٹسٹ ’’امل علم‘‘ نے منفرد انداز میں مجسمہ سازی اور مصوری کو یکجا کرنے اور ماضی اور حال کو یکجا کرنے میں مہارت حاصل کرکے اپنے فن پاروں سے لوگوں کو حیران کردیا ہے۔

سعودی مصورہ ’’ امل علم‘‘ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو ایک انٹرویو دیا اور اپنے حالات، تجربات اور کامیابیوں سے آگاہ کیا ہے۔ امل نے بتایا "میں بچپن سے ہی پلاسٹک کی آرٹسٹ رہی ہوں۔ میرا ورثے اور فطرت کی جانب رجحان شروع سے ہی تھا۔

سعودی خاتون کی کوشش
سعودی خاتون کی کوشش

جب مجھے استاد مقرر کیا گیا تو میں نے پڑھانا شروع کیا۔ میں نے مقامی سطح پر ابھا، الباحہ، نجران، ریاض اور جدہ اور دیگر شہروں میں اپنا فن پیش کیا۔ بین الاقوامی سطح پر میں نے لندن، مصر، دبئی اور ابوظبی اور دیگر عالمی شہروں میں ہونے والی نمائشوں میں شرکت کی ہے۔

قالین پینٹنگ اور مجسمہ سازی ساتھ ساتھ

انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں اور درمیانی مرحلے میں میں کھیتوں، پہاڑوں اور صحراؤں سے روایتی خاموش فطرت اور فطرت کو پینٹ کرتی تھی۔ یہ سب ایک ایسا ماحول ہے جس میں میں اپنے آبائی شہر نجران اور ابھا اور عسیر کے خوبصورت قدرتی علاقے میں اپنی رہائش گاہ کے درمیان رہتی تھی۔

میں نے اپنی صلاحیتوں کو فنون کے اسی شعبے میں تعلیم کے ساتھ وابستہ ہوکر اور طالبات کو فنون کی تدریس کے ذریعے تجربہ حاصل کرکے بڑھایا۔ میں نے 1985 سے لے کر موجودہ وقت تک فنون لطیفہ کے بہت سے پروگراموں میں شرکت کی۔ میں نے نے ہر قسم کے فنون کی مشق کی جس میں ڈرائنگ، مجسمہ سازی، شیشے کا کام، آرٹ ورک اور عصری رجحانات پر مشتمل کام شامل ہیں۔ اس کام کے حوالے سے میرے پہلے حامی میرے والد تھے۔

سعودی خاتون  کی ایک پروڈکٹ
سعودی خاتون کی ایک پروڈکٹ

انہوں نے بتایا کہ قالین پینٹنگ اور مجسمہ سازی کے درمیان رہ کر میں نے عمدہ فن کا آغاز کیا۔ اس لیے میں نے کئی ممتاز پینٹنگز تیار کیں جو نمائشوں میں پیش کی گئیں۔ میں درستی اور خوبصورتی کی وجہ سے فرش کے قالینوں اور دیگر کو پینٹ کرنے کا رجحان رکھتی تھی۔ چنانچہ میں نے 1997ء میں میری والدہ کی جائے نماز کے عنوان سے پرانے قالین یا جائے نماز کی پینٹنگ بنائی جسے ابوظبی میں میری تمام تخلیقات کے ساتھ پیش کیا گیا۔

فنکارانہ تخلیقات

امل علم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت سی فنکارانہ تخلیقات پیش کی ہیں جن میں شیشے کی مجسمہ سازی اور شیشے کی سلائیڈ پینٹنگز کو نرم مواد پر نقش و نگار بنانے کے انداز میں پیش کیا۔ ان میں موم بتیاں، ٹیکسٹائل، سلک پینٹنگ، پیپر ورکس اور دیگر مواد شامل ہیں۔ اس طرح میں نے بہت سے عصری رجحانات کے مطابق فن پارے تیار کیے۔

سعودی ورثے کی تاریخ

امل علم نے واضح کیا کہ ہمیں مختلف فنکارانہ طریقوں سے سعودی ورثے کی تاریخ کو فن پاروں میں لانا ہوگا اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنا ہوگا۔ مصوری اور مجسمہ سازی کی تاریخ کو بھی دستاویز کی شکل میں لانا چاہیے۔

جائے نماز
جائے نماز

امل نے اپنی تقریر کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ میری مستقبل کی خواہش مجسمہ سازی پر ایک جامع کتاب میں اپنے کام اور علمی تحقیق کو دستاویز کی شکل دینا ہے۔ یہ وہ کام ہے جس پر میں نے نجران اور عسیر کے علاقے میں اپنے وطن کی دولت سے مخصوص پتھروں سے مشق کی تھی۔ اس دوران میں نے بہت سے مجسمے تیار کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں