سربیا میں سکول میں قتل عام کرنے والے لڑکے نے کیا کہا؟

طالب علم نے سیکیورٹی گارڈ کے علاوہ 7 لڑکیوں اور 12 سے 14 سال کی عمر کے ایک لڑکے کو قتل کیا۔ چھ بچے اور ان کے استاد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سربیا میں جمعرات کو بلغراد کے ایک سکول میں فائرنگ کے واقعہ کے باعث غم کی کیفیت طاری رہی۔ ایک 13 سالہ طالب علم نے فائرنگ کرکے 8 ساتھیوں اور سکیورٹی گارڈ کو ہلاک کردیا۔ ملک کے تمام سکولوں میں کلاسز کا آغاز قتل عام کے متاثرین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔

سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک نے بدھ کی شام قوم سے خطاب کیا اور سربیا کے لیے عصری تاریخ کے مشکل ترین دنوں میں سے ایک پر افسوس کا اظہار کیا۔ حکومت نے جمعہ سے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ 70 لاکھ سے کم آبادی والے اس ملک میں منائے جانے والے تقریبات کو بھی منسوخ یا محدود کردیا گیا ہے۔

فائرنگ کی زد میں آنے والے سکول کے قریب رہنے والی 85 سالہ ریٹائرڈ خاتون وکیل ملیوا ملاسووچ نے کہا "میں کل سارا دن روتی رہی۔ میرا بیٹا بھی اسی سکول میں جاتا تھا" جہاں یہ قتل عام ہوا۔

متاثر ہونے والے ’’ولادیسلاو ربنیکار‘‘ پرائمری سکول کو جمعرات کی صبح بند کر دیا گیا۔

خیال رہے بدھ کی صبح ایک 13 سالہ طالب علم نے سکول میں 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ کردی تھی۔ جس سے سکیورٹی گارڈ اور 3 طالب علم راہداریوں میں مارے گئے۔ اس کے بعد وہ ایک کلاس روم میں گیا جہاں اس نے پہلے استاد اور پھر دیگر طالب علموں کو گولی مار دی۔

مجموعی طور پر طالب علم نے گارڈ کے علاوہ 7 لڑکیوں اور 12 سے 14 سال کی عمر کے ایک لڑکے کو قتل کیا۔ 6 بچے اور ان کے استاد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ بلغراد کے 2 ہسپتالوں کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ زخمیوں سے ایک لڑکے اور ایک لڑکی کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور کو قتل عام کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا۔ وہ سکول کے صحن میں پولیس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ بلغراد کے پولیس چیف ویسلین ملیک نے کہا کہ قاتل نے پولیس کو فون کیا اور اپنے اقدام کا بتایا تھا۔ پولیس چیف نے سربیا کے قومی ٹیلی ویژن کو بتایاکہ فائرنگ کرنے والے لڑکے نے کہا ہے کہ اس نے سکول میں لوگوں کو گولی مار دی ہے اور وہ ایک ذہنی مریض ہے جسے پرسکون ہونے کی ضرورت ہے۔

بلغراد پولیس کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس لڑکے نے پولیس کو کرائم سین کے متعلق بتایا کہ میں اس دن کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں بہترین حالات تھے کیونکہ میں ایک دن میں سب کچھ ختم کر سکتا تھا۔ پولیس چیف نے مزید واضح کیا کہ اس لڑکے نے ان لوگوں کی فہرست بنائی ہوئی تھی جنہوں نے ماضی میں اسے سب سے زیادہ غصہ دلایا تھا۔

میلک نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ حملہ آور کو نفسیاتی ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔ وہ ایک ماہ قبل سے ہی فائرنگ کرنے کی تیاری کر چکا تھا۔ اس نے ترجیحی ناموں کی ایک فہرست بنا کر حملہ کیا۔ شوٹر کے والد اور والدہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سربیا میں تقریباً 765,000 ہتھیار رجسٹر کیے گئے ہیں جن میں 232,000 سے زیادہ پستول شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں