سعودی عرب کا لگژری جزیرہ سندالہ 500ارب ڈالرمالیت کے میگامنصوے نیوم کی پہلی منزل ہوگا۔اس کے منصوبہ سازوں نے اس کی پہلی جھلک دنیا کے سامنے پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں پیش کیے جانے والے سامان عیش ونشاط اور فرحت وانبساط میں کیاکچھ ہوگا۔
توقع کی جارہی ہے کہ پہلے مہمان 2024 میں بحیرہ احمر میں واقع اس لگژری جزیرے پر قدم رکھیں گے، جہاں وہ ایک مشہوراطالوی ڈیزائنر کی تیارکردہ عالمی معیارکی کشتی رانی کی منزل دیکھ سکتے ہیں۔اس میں تین میگا لگژری ہوٹل، ایک گالف کورس،کئی ایک ریستوراں اور’دا ویلج‘کے نام سے جدید گاؤں میں ایک بین الاقوامی لگژری خوردہ خریداری مرکزہوگا۔اس میں 51مشہورلگژری ریٹیل کی دکانیں ہوں گی۔
نیوم کے چیف اربن پلاننگ آفیسرانٹونی ویوز نے العربیہ کو بتایا کہ سندالہ 84 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے اور اس کا مقصد 2028 تک روزانہ 2،400 زائرین اورسیاحوں کو راغب کرنا ہے۔یہ دنیا کے سامنے نیوم کی صلاحیتوں کا مظہرہوگا اور یہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی منصوبہ بندی کے مطابق دنیا میں شہری ترقی کے سب سے زیادہ پرعزم پائیدار منصوبوں میں سے ایک ہوگا۔
یہ امید کی جاتی ہے کہ نیوم کے تمام سیاحوں میں سے کم سے کم دس میں سے ایک سندالہ ضرور جائے گا۔یہ نیوم کے میگا منصوبہ سے کشتی یا سمندری جہاز کے ذریعے قابل رسائی ہوگا۔
انھوں نے کہا:’’سندالہ عوام کے لیے نیوم کا تجربہ کرنے کا پہلا موقع ہوگا۔نیوم کی پہلی فزیکل نمائش کے طور پرسندالہ بحیرہ احمر کا ایک دلکش گیٹ وے اور ایک عالمی معیار کی سپریاٹنگ منزل ہوگی۔اس سے سیاحوں کو خطے میں آنے والے تجربات کی ایک جھلک ملے گی‘‘۔
انھوں نے کہا کہ نیوم کا ویژن مستقبل کی سرزمین کی تعمیر کرنا ہے۔یہ ایک بالکل نئی قسم کی منزل ہے۔ سندالہ مستقبل کے شہرنیوم کے ویژن کا ایک اہم حصہ ہے۔
سعودی ولی عہد نے 2022 میں سندالہ کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا:’’یہ نیوم کے لیے ایک اور اہم لمحہ ہے اور ویژن 2030 کے تحت مملکت کے سیاحتی عزائم کو عملی جامہ پہنانے میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ ایک ایسی منزل ہوگی جہاں مسافر پانی کے اوپراورنیچے نیوم اور سعودی عرب کی حقیقی خوب صورتی کا تجربہ کر سکیں گے، جس سے مستقبل میں سندالہ پرتعیش سفرکی منزل بن جائے گا‘‘۔
ایک بارکھلنے کے بعد، یہ جزیرہ موناکو اور ایتھنز جیسے سرفہرست عالمی سیاحتی مقامات کا مقابلہ کرے گا اوراپنی سال بھرکی لگژری پیش کشوں کے ساتھ خود کو کشتی رانی اور منفردکھانوں کی اہم منزل کے طور پر پیش کرے گا۔سندالہ نیا اعلیٰ درجے کا سیاحتی مقام ہوگا۔یہ عالمی معیار کی مرینا اور کشتی کلب کا مقام ہوگا ، جو خود کو بین الاقوامی یاٹنگ سیزن میں ایک نئے اضافے کے طور پر پیش کرے گا۔
سندالہ بحرمتوسط (بحیرہ روم) کے کشتیوں کے زیادہ ترمقامات سے کشتی کے ذریعے صرف 17 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہوگا۔یہ بحیرہ احمر میں نیوم کا داخلی راستہ ہوگا۔یہ یورپ، سعودی عرب اور خلیج عرب کے کشتی مالکان کو آسان رسائی مہیا کرے گا۔
ویوز نے العربیہ کو بتایا کہ’’سندالہ یورپ اور بحیرہ روم کے قریب ترین الٹرا پرائم مرینا ہوگا، جو عالمی یاٹنگ کیلنڈر کے لیے ایک نیا موسمی آپشن پیش کرے گا اور کشتی رانی کے ایک نئے سندالہ مرینا 75 میٹر تک کی کشتیوں کے لیے 86 برتھ اور 180 میٹر تک کی سپر یاٹس کے لیے اضافی سروس آف شور بوائے پیش کرے گا اوریہ دنیا کے سب سے شاندار جہازوں کی میزبانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔
منفردڈیزائن
اس کا ڈیزائن مشہور اطالوی سپر یاٹ ڈیزائنر لوکا ڈینی ڈیزائن اینڈ آرکیٹکچر کی قیادت میں تیارکیا گیا ہے۔ یہ مکمل طور پر منفرد ، قابل رسائی ہے اور جزیرے کے مہمانوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہےلیکن یہ جزیرہ صرف کشتی رانی کی منزل سے بہت آگے ہے۔
سندالہ میں تین لگژری ہوٹل ہوں گے جن میں 400 سے زیادہ الٹرا پریمیئم کمرے اور 300 ٹاپ اینڈ سویٹس ہوں گے۔اس میں میریٹ انٹرنیشنل کی تین جائیدادیں شامل ہیں ۔سعودی عرب کا پہلا آٹوگراف کلیکشن ہوٹل اور ساتھ ہی دو لگژری کلیکشن پراپرٹیز بھی شامل ہیں۔
میریٹ انٹرنیشنل میں یورپ، مشرقِ اوسط اورافریقا کے لیے چیف ڈیولپمنٹ آفیسر جیروم بریٹ نے اس سال کے اوائل میں کہا تھا کہ "نیوم دنیا میں سب سے زیادہ متوقع پیش رفت ں میں سے ایک ہے اور ہم ان تین دلچسپ خصوصیات کو تیار کرنے کے لیے اس کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں‘‘۔لگژری کلیکشن اور آٹوگراف کلیکشن ہوٹلز کی پراپرٹیز نیوم کے غیر معمولی قدرتی مناظر سے متاثرہوکر اپنی منفرد شخصیت کا اظہار کریں گی۔ ہم اپنے برانڈ پورٹ فولیو کے لیے منزل کے اندر اور مجموعی طور پر سعودی عرب کے لیے ترقی کے مواقع دیکھ رہے ہیں‘‘۔
کھانا اور تفریح
یہ جزیرہ کھانوں اور مشروبات کی 38دکانوں کے ساتھ لذت کام ودہن کی ایک منزل بن جائے گا، اس میں اعلیٰ درجے کے نو ریستوراں ، نو پریمیئم آرام دہ ریستوراں ، آن یاٹ ڈائننگ اور تین چھتوں پر پاپ اپ لاؤنج شامل ہیں۔
تفریحی سرگرمیوں کے لیے جزیرے کی سہولیات میں 6،474 گز (5،920 میٹر) پار 70 گالف کورس اور ایک اسپا اینڈ ویلنیس سنٹرشامل ہیں۔اس میں فائیو اسٹار ساحل، مائیکلن اسٹارڈ ڈائننگ آپشنز، کھیلوں کی تقریبات اوربحیرہ احمر میں مشہوراسکوبا ڈائیونگ بھی شامل ہوں گے۔ نیوم کے اہم اہداف میں سے ایک قدرتی خوب صورتی کا تحفظ اورنمائش کرنا ہے۔سندالہ میں کایاکنگ ، پتنگ سرفنگ اور واٹر اسکیئنگ ایسی سرگرمیاں بھی پیش کرے گا۔
ویوز نے بتایا کہ ’’ایک دلچسپ نئی منزل جہاں ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور فطرت منفرد، ناقابل فراموش تجربات کے ایک سال کے کیلنڈر کے ساتھ یکجا ہوتی ہے، سندالہ عالمی پرتعیش سفر کو نئی شکل دے گا۔ ہماری امیدیں متنوع عالمی زائرین کو راغب کرنے اور بحیرہ احمر کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے کے لیے ہیں۔نیوم دنیا کا بہترین شہربننے کی کوشش کر رہا ہے اور سندالہ اس کا مظاہرہ کرنے کا ہمارا پہلا موقع ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا:’’بحیرہ احمر کے آس پاس سیاح 2،000 سے زیادہ سمندری انواع کو دریافت کرسکتے ہیں۔ان میں سے 600 اس خطے میں مقامی ہیں اور دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی ہیں۔سندالہ جدید ترین ثقافتی تقریبات، شاندارکھیل تماشوں اور متحرک سماجی تقریبات کی بھی میزبانی کرے گا کیونکہ یہ جزیرہ سال بھر جگمگاتا رہتا ہے‘‘۔
ویوز نے بتایا کہ اپنی عام پیش کشوں کے لیے سندالہ کے پاس دی ویلج نامی جزیرے کے وسط میں واقع ایک بین الاقوامی لگژری ریٹیل آفر بھی ہوگی‘‘۔ویوز نے اس گاؤں کو’’آرکیٹکچرل شاہکار اورآنکھوں کے لیے ایک دل کش نظارہ‘‘کے طور پر بیان کیا۔سندالہ دنیا کے بہترین لوگوں کی بہترین پیش کش ہے۔اس کا ہر تجربہ اپنے علاقے میں دنیا کی بہترین کمپنیوں کی طرف سے احتیاط سے تیار اور ترتیب دیا گیا ہے، جو اپنی بہترین سطح کی خدمت مہیا کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
اس کے فن تعمیرکا مقصد جزیرے میں جدید ٹیکنالوجی کو بھی پیش کرنا ہے ، جس میں شمسی ردعمل والی حرکی چھت ، تھری ڈی کاسٹ کرسٹل گلاس اور چٹان کے ستون شامل ہیں اورانسانی چھونے سے باہمی تعامل کریں گے۔
سیاحت سے آمدن
سعودی عرب اپنے پرعزم ویژن 2030 منصوبوں کے ایک حصے کے طور پرسیاحت کی آمدن میں اضافے پر غور کر رہا ہے۔اس کا مقصد مملکت کی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔ان میں تعلیمی اصلاحات سے لے کر نیوم اور بحیرہ احمر جیسے ہائی پروفائل منصوبے شامل ہیں۔نیوم مملکت کے مغربی ساحل کے ساتھ 28،000 مربع کلومیٹرکا سیاحتی مقام ہے۔
ویوزنے کہاکہ سندالہ کا افتتاح جزیرے اور یہاں تک کہ نیوم سے باہربھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔یہ ایک ایسے دور کا آغاز ہے۔یہ آنے والے وقتوں میں عالمی سیاحت کے سرفہرست مقامات میں سے ایک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت بحیرہ احمر میں ہونے والی حیرت انگیز پیش رفتوں کے سلسلے میں یہ پہلا واقعہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سندالہ دنیا کے لیے نیوم کی دریافت کا نقطہ آغاز بھی ہوگا جو معاشی ترقی اور تنوع کے لیے محرک ثابت ہوگا۔ نیوم زندہ رہنے، کاروبار اور تحفظ کا ازسرنو تصور کرے گا اور مملکت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صنعت کی ترقی اور پائیداری کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔
ویوز کے مطابق:’’سندالہ نیوم کے ویژن اوراہداف کی پیروی کرتا ہے،ان میں موسمیاتی تبدیلی اور بے قابو ترقی کے اثرات کو اپنانا اور کم کرنا ، ماحولیاتی انحطاط کو روکنے اور فطرت کو دوبارہ تخلیق کرنے کے نئے طریقوں کو فروغ دینا شامل ہے‘‘۔
ایک پرتعیش منزل کے ساتھ ساتھ ، سندالہ روزگار کے وسیع تر مواقع مہیا کرے گا۔ممکنہ ملازمین کو نیوم کی بھرتی کی ویب سائٹ کے ذریعہ درخواست دینے کی ترغیب دی جائے گی۔توقع ہے کہ اس منصوبے کی ترقی سے سیاحت،مہمان نوازی اور تفریحی خدمات کے شعبوں میں 3،500 نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
اورویوز کے قول کے مطابق:’’جب دنیا تلاش کرنے کے لیے نئی جگہوں اور نئی مہم جوئی کی تلاش میں ہے، تو سندالہ پوری طرح سے دنیا کے سامنے نیوم کے ویژن کی پہلی منزل کے طور پر موجود ہے۔یہ مستقبل میں آنے والی چیزوں کا ایک ذائقہ ہے‘‘۔