مصر میں ایک مشہور قاری کی ناچتے اور گاتے ہوئے کی ویڈیو میں ہنگامہ برپا کردیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشہور قاری ممدوح عامر شادی کی تقریب میں ’’ام کلثوم‘‘ کے ایک گانے پر رقص کر رہے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے افراد نے مشہور قاری ممدوح عامر کی ایک مقبول تقریب میں رقص کی ویڈیو شیئر کی تو ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے قرآن کریم کے قاری کے لہو و لعب میں لگنے اور اپنی حیثیت کا احترام نہ کرنے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوگوں نے کہا کہ قاری ممدوح عامر نے قرآن سے اپنی نسبت کا احترام نہیں کیا۔
تلاوت کرنے والے ممدوح عامر کے خاندان کے افراد نے انکشاف کیا کہ قاری صاحب ڈیلٹا گورنریٹس میں سے ایک میں اپنے آبائی شہر میں تھے جہاں انہوں نے اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے دوران گانے پر رقص کیا تھا۔
اس ویڈیو کے منظر پر آنے کے بعد قرآن کریم کے حفاظ کرام اور قراء کرام کے سنڈیکیٹ نے بھی اس عمل کی شدید مذمت کی اور کہا ک تلاوت کرنے والے کا ناچنا، جھومنا اور میلے کے گلوکاروں کی طرح حرکات کرنا قابل مذمت ہے۔
سنڈیکیٹ کی طرف سے بتایا گیا کہ قاری ممدوح عامر کے لیے مناسب تھا وہ جس عظیم کتاب کے ساتھ اپنی نسبت جوڑتے ہیں اور اس کی تلاوت کرتے ہیں اس کا احترام کرتے اور اس طرح رہتے جس سے ان کا نام روشن ہوتا اور ان کے وقار میں اضافہ ہوتا لیکن وہ جس مقام تک گر گئے وہ اہل قرآن کے لیے کسی طور پر مناسب نہیں تھا۔
سنڈیکیٹ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا کہ سنڈیکیٹ اس وقت ویڈیو کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے حالات جان رہی ہے۔ بظاہر معلوم ہورہا ہے کہ قاری ممدوح عامر سنڈیکیٹ کے رکن نہیں ہیں۔ تاہم بورڈ آف ڈائریکٹرز کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے خلاف تادیبی فیصلے کرے۔
خیال رہے کچھ ماہ قبل اسی طرح کے ایک واقعے میں اور مصر میں سوشل میڈیا پر غم و غصہ کے اظہار کے بعد قراء کرام کی سنڈیکیٹ نے ایک مشہور قاری کو دوران تلاوت رقص جیسا انداز اپنانے پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔