سعودی کمپنی کے زیرِنگرانی نیروبی میں رضاکارانہ کاربن کریڈٹ کی سب سے بڑی نیلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی ایک کمپنی نے 22 لاکھ سے زیادہ کاربن آفسیٹ کی بولی میں فروخت کی نگرانی کی ہے۔اسے اس نے رضاکارانہ کاربن کریڈٹ کی اب تک کی سب سے بڑی نیلامی قرار دیا ہے۔یہ کریڈٹ 16 سعودی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے حاصل کیا ہے۔

سعودی عرب کی ملکیتی ریجنل والنٹری کاربن مارکیٹ کمپنی (آر وی سی ایم سی) نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں نیلامی کی میزبانی کی ہے۔ اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاربن کی بڑی خریدار کمپنیاں سعودی آرامکو، سعودی بجلی کمپنی اورای نووا (نیوم کے ماتحت فرم) تھیں۔

اس سال کے اوائل میں زمبابوے نے اپنی سرحدوں کے اندر منصوبوں سے حاصل ہونے والی تمام آمدن کا نصف حصہ لینے کے اقدام نے 2 ارب ڈالر کی کاربن کریڈٹ مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس اعلان اور اس طرح کے دیگر اقدامات نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال پیدا کردی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے کاربن اخراج کم کرنے کے لیے آفسیٹ کا رخ کرتی ہے۔

نیروبی کی نیلامی میں کریڈٹ کی ٹوکری میں 18 منصوبے شامل ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بچنے اور ہٹانے کے مرکب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان میں بہتر صاف باورچی چولھے اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ کریڈٹ حاصل کرنے والے خریدار ان کو اپنی کاروباری سرگرمی سے منسلک اخراج کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

فروخت ہونے والے کاربن کریڈٹ کا تین چوتھائی مشرق اوسط ، شمالی افریقا اور ذیلی صحرا افریقا کے ممالک سے ہے۔ان میں کینیا، یوگنڈا، برونڈی، روانڈا، مراکش، مصر اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ کلیئرنگ کی قیمت 23.50 سعودی ریال (قریباً 6.27 ڈالر) فی کاربن کریڈٹ تھی۔ ایک کریڈٹ ایک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نمائندگی کرتا ہے۔

بولی سے قبل آر وی سی ایم سی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) ریحام الجیزی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کمپنی اب اگلے سال کی پہلی شش ماہی میں سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں آفسیٹ ایکس چینج قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ہمارا مقصد 2030 تک دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک بننا ہے‘‘۔

آر وی سی ایم سی نے گذشتہ سال اکتوبر میں الریاض میں اپنی پہلی نیلامی کی میزبانی کی تھی ، جس کے نتیجے میں فروخت شدہ کاربن کریڈٹ 14 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ مقدار ڈھائی لاکھ خاندانی کاروں کے سالانہ اخراج کے ازالے کے لیے کافی ہے۔

تب سب سے زیادہ بولی لگانے والوں میں آرامکو، اولیان فنانسنگ کمپنی اور سعودی عرب کی کان کنی کی سرکاری کمپنی معادن شامل تھیں۔ اس نیلامی میں فروخت ہونے والے کریڈٹ کی کل قیمت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

آر وی سی ایم سی کو اکتوبر 2022 میں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور سعودی تداول گروپ ہولڈنگ کمپنی نے قائم کیا تھا۔ پی آئی ایف کے پاس اس کے 80 فی صد حصص ہیں اور تداول گروپ کے پاس کمپنی میں 20 فی صد حصص ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں