بچوں اور نوجوانوں کو لت پڑ رہی: امریکہ میں میٹا کیخلاف درجنوں مقدمات درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

درجنوں امریکی ریاستوں نے میٹا پلیٹ فارمز اور اس کے انسٹاگرام پلیٹ فارم کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کردی۔ الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا نوجوانوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کر کے انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے عادی بننے کی طرف دھکیل رہا اور ان کے لیے ایک بحران پیدا کر رہا ہے۔

منگل کو درج شکایت میں کیلیفورنیا اور نیویارک سمیت 33 ریاستوں کے پراسیکیوٹرز نے کہا کہ میٹا جو فیس بک بھی چلاتی ہے، اپنے پلیٹ فارمز کے خطرات کے بارے میں عوام کو بار بار گمراہ کرتی ہے۔ کمپنی ’’میٹا‘‘ جان بوجھ کر چھوٹے بچوں اور نوعمروں کو زبردستی سوشل میڈیا کے استعمال کی لت کی طرف دھکیل رہی ہے۔

آکلینڈ، کیلیفورنیا میں وفاقی عدالت میں دائر کی گئی شکایت میں کہا گیا کہ میٹا نے نوجوانوں اور نوعمروں کو راغب کرنے، مشغول کرنے اور بالآخر پھنسانے کے لیے طاقتور اور بے مثال تکنیکوں کا استعمال کیا ہے۔ اس سب کا مقصد منافع کمانا ہے۔ بچے طویل عرصے سے ان کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش آبادی رہے ہیں ۔ کمپنیاں چاہتی ہیں کہ وہ ان عمروں میں صارفین کے طور پر ان کمپنیوں کی طرف متوجہ ہوں۔

میٹا کے لیے نوجوان صارفین مزید مشتہرین کو راغب کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن جن ریاستوں نے مقدمہ دائر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ تحقیق نے بچوں کے میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال اور ان کے ڈپریشن، اضطراب، بے خوابی، تعلیم اور روزمرہ کی زندگی میں مداخلت، اور بہت سے دوسرے منفی نتائج کے درمیان تعلق ظاہر کیا ہے۔

دوسری طرف میٹا نے مقدمہ پر اپنی "مایوسی" کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نوعمروں کے ذریعے استعمال کی جانے والی بہت سی ایپس کے لیے واضح معیارات بنانے کے بجائے استغاثہ نے مقدمہ دائر کرنے کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔

آٹھ دیگر امریکی ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے منگل کو میٹا کے خلاف اسی طرح کے مقدمے دائر کیے جس سے کمپنی کے خلاف کارروائی کرنے والی جماعتوں کی کل تعداد 42 ہو گئی۔ میٹا کمپنی کا صدر دفتر مینلو پارک کیلیفورنیا میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں