غزہ میں امداد کے لیے مکمل سیزفائر کی ضرورت ہے: فلسطینی وزیر خارجہ

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت رکوانے کی خاطر فلسطین کی عالمی فوجداری عدالت سے مداخلت کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کو ’انتقام کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی فوج داری عدالت سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اور کہا ہے کہ اسرائیل کو مکمل سیزفائر پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ میں انسانی امداد ڈیلیور کی جا سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کے رہنما بمباری میں توقف کا مطالبہ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ریاض المالکی نے کہا کہ یہ تجویز ناقابل قبول ہے، کیونکہ اس سے امداد کو یقینی نہیں بنایا جائے گا اور پانی اور بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہو گی۔

اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے جمعرات کو نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں فلسطینی اتھارٹی کے مشن میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ’اسرائیل نے اس بار جو جنگ چھیڑ رکھی ہے وہ پہلے سے مختلف ہے۔

’اس بار یہ انتقام کی جنگ ہے۔ پہلے ہمیں اس یک طرفہ جارحیت کو ختم کرنے اور پھر ہمیں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انسانی مدد کی تقسیم کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔‘

ریاض المالکی بدھ کو ڈچ شہر پہنچے تھے جہاں انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

ریاض المالکی نے کہا کہ ’غزہ کی صورت حال اب اتنی خطرناک ہے کہ اس میں آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کی فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی ’آئی سی سی پراسیکیوٹر کے ساتھ کام کر رہی ہے اور عدالت کو (اسرائیل کے خلاف) کارروائی کے لیے تمام معلومات فراہم کر رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت (انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس) جو کہ دی ہیگ میں واقع ہے میں دوسری عرضداشت پیش کی۔

غزہ کی حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل بمباری سے ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری اور بہت سے بچے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے ججز سے فلسطین میں قبضے کے بارے میں مشاورتی رائے طلب کی ہے۔

عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کے دفتر نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ فلسطینی صورت حال کی تحقیقات کی حمایت میں ’مسلسل معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے 2021 میں اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس میں اسرائیلی افواج اور حماس اور فلسطینی مسلح گروپوں کے مبینہ جرائم بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں