پانچ خوردنی پھول جنہیں مصالحے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا

گلاب کی پنکھڑیوں کو کھانوں یا مشروبات کو ذائقہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا اور جام بنایا جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تمام گلاب کے پھول ہی کھانے کے قابل ہیں لیکن سب سے زیادہ میٹھی خوشبو والے گلاب کے ساتھ سب سے زیادہ ذائقہ ملنے کا امکان ہے۔ گلاب کی پنکھڑیوں کو کھانے یا مشروبات کو ذائقہ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان سے کچھ قسم کے جام بنائے جا سکتے ہیں۔ ویب سائٹ ’’ ڈبلیو آئی او ‘‘ نیوز کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پھولوں کی پانچ اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے صحت کے لیے فوائد ہیں اور انہیں مصالحے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

1. لیوینڈر یا اسطوخودوس

لیوینڈر کا استعمال عام طور پر مٹھائیاں اور بیکڈ سامان بنانے میں کیا جاتا ہے۔ لیوینڈر کے پھولوں میں کچھ میٹھا ذائقہ ہوتا ہے جو قدرے تیز بھی ہوتا ہے۔ وہ ذائقہ دار پکوانوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں جیسے سٹیو، چٹنی اور سوپ میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

2. گلاب

گلاب ایک مقبول خوردنی پھول ہے جسے مختلف پکوانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گلاب ایک میٹھا اور نازک ذائقے والا پھول ہے۔ اس ذائقہ کو چینی یا لیموں کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ گلاب کی پتیاں عام طور پر چائے، جام اور شربت بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

طائف کے گلاب
طائف کے گلاب

3. ناسپوزین

ناسپوزین بھی ایک مسالہ دار پھول ہے۔ یہ پھول عام طور پر سجاوٹ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ناسپوزین یا نیسٹورٹیم کے پھولوں کے سبز پتے کھانے کے قابل ہوتے ہیں لیکن ان کا ذائقہ قدرے کھٹا ہوتا ہے۔ نیسٹورٹیم کے پھول کثیر رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کا ذائقہ قدرے کڑوا ہوتا ہے۔ ۔ ان کو سلاد اور ٹھنڈے کھانوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان پھولوں سے پکوان سجاتے ہیں یہ وٹامن سی سے بھرپور پھولوں میں سے ہیں۔ انہیں سرکہ یا پیسٹو بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ہیبسکس چائے
ہیبسکس چائے

4. گاؤ زبان یا بوریج

بوریج کو کاہلہ اور گاؤ زبان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نیلے پھولوں، سفید پتے اور کانٹے دار بالوں والا پودا ہے۔ بحیرہ روم کے علاقے میں بوریج کی بہت سی اقسام پھیلی ہوئی ہیں اور عام طور پر یہ پودا باغات کے قریب اگتا ہے تاکہ شہد کی مکھیوں جیسے جرگوں کو راغب کریں۔ بوریج کا ذائقہ ککڑی جیسا ہوتا ہے اور اسے عام طور پر سوپ، سلاد اور چائے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔

5. ہیبسکس

Hibiscus انفلوئنزا انفیکشن کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سوزش اور اینٹی وائرل خصوصیات ہیں۔ یہ پھول جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اس لیے بخار کے علاج کے لیے مفید ہے۔ ہیبسکس میں وٹامن سی ہوتا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ یہ نزلہ اور کھانسی کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ ہیبسکس کو عام طور پر چائے یا جام بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں