ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو بتایا ہے کہ امریکی حملے میں جنوبی بندرگاہی شہر سیریک میں دو آبی ذخائر نشانہ بنے جس کے بعد علاقے میں ہزاروں ایرانی پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن کے مطابق ایران نے خلیجی پانیوں میں امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جس کے بعد امریکہ نے جنوبی شہروں جاسک اور سیریک اور آبنائے ہرمز کے جزیرہ قشم پر حملے کیے۔
حملوں سے سیریک شہر کے بیمانی اور کوہستک علاقوں کو رسد پہنچانے والے دو آبی ذخائر کو نقصان پہنچا۔
"بدقسمتی سے اس حملے کے بعد علاقے کے 20,000 رہائشی پینے کے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں اور درجہ حرارت 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کے باعث مقامی باشندوں کے لیے حالات انتہائی مشکل اور نازک ہیں،" ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مقامی واٹر کمپنی کے حکام کے حوالے سے بتایا۔
اس علاقے میں تباہ شدہ ذخائر کا متبادل زمینی پانی ناکافی ہے، یہ مشاہدہ کرتے ہوئے ٹیلی ویژن نے مزید کہا، "ان آبی ذخائر کی تباہی نے علاقے میں پانی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔"
جنوبی صوبے ہرمزگان میں واٹر کمپنی کے ایک سینیئر اہلکار عبدالحمید حمزہ پور کے مطابق علاقے میں متأثرہ دیہات کے لیے پانی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تہران نے "جھوٹے بہانوں" کے تحت کیے گئے حملوں کی مذمت کی اور بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی مراکز پر میزائل اور ڈرون حملوں سے ان کا جواب دیا۔