ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان الزامات کے باوجود تجارت عروج پر پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ جنگ کے باعث انقرہ اور تل ابیب کی طرف سے ایک دوسرے پر سخت الزامات کے تبادلے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم گذشتہ نومبر میں اپنے عروج پر پہنچ گیا، جس کے بعد ترکیہ۔اسرائیل سے درآمدات کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔

یہ معلومات گذشتہ روز ترک اخبار ’زمان‘ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں۔ ترکیہ کے شماریاتی ادارے کے شائع کردہ تازہ ترین اعداد وشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برآمدات میں درآمدات کا تناسب 42.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

دونوں رپورٹوں میں نومبر میں اسرائیل کو ترکیہ کی برآمدات 301 ملین ڈالر تھیں، جب کہ اسرائیل سے اس کی درآمدات 128 ملین ڈالر کی تھیں جس میں 42.4 فیصد کا فرق ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے کسی اور مہینے میں تناسب کبھی بھی 40 فیصد رکاوٹ سے تجاوز نہیں کر سکا، نومبر کےوسط میں 10 ماہ دونوں ملکوں کا تجارتی حجم 32 فیصد تک پہنچ گیا جو کہ ایک ریکارڈ تھا۔ یہ وہ مہینہ تھا جس میں غزہ کی پٹی میں جنگ عروج پر تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور تند وتیز بیانات دیے جا رہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد وشمار ترک وزیر تجارت عمر پولات کے اس بیان کے برعکس ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے انقرہ اور تل ابیب کے درمیان تجارت کم ہو کر آدھی رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ باہمی تجارت میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں