’’سعودی عرب میں ڈبلیو ٹی اے فائنلز پر تنقید حقائق سے لاعلمی کا نتیجہ ہے‘‘

کھیلوں کو ذاتی تعصب اور مخصوص ایجنڈے کی ترویج کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے: امریکہ میں سعودی عرب کی سفیرہ شہزادی ریما بنت بندر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکہ میں سعودی عرب کی سفیرہ شہزادی ریما بنت بندر نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین ٹینس ایسوسی ایشن کے فائنل مقابلوں کے انعقاد کے فیصلے پر اعتراض "اس پیش رفت کو کمزور کرتا ہے" جو سعودی خواتین نے کھیلوں میں آگے بڑھنے کے لیے کی ہے اور یہ دیکھنا انتہائی "مایوس کن" ہے۔

سعودی سفیرہ نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ادارتی کالم کے جواب میں ایک بیان جاری کیا جس میں لکھاریوں نے مملکت میں ٹینس کے بڑے ایونٹ کی میزبانی کے فیصلے پر تنقید کی کیونکہ لکھاریوں کے بہ قول ’’سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں خواتین کو برابری کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور انہیں مردوں کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔"

شہزادی ریما کے مطابق کھیلوں کو ذاتی تعصب، کسی مخصوص ایجنڈے کی ترویج یا کسی ایسے معاشرے کو سزا دینے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو ٹینس کو اپنانے اور اس کھیل کی خوشی منانے اور بڑھنے میں مدد کرنے کے لیے بے چین ہو۔

سعودی خواتین کی ترقی کو نقصان پہنچانا

شہزادی ریما نے اپنے بیان میں لکھا، "سعودی عرب میں خواتین کی شاندار ترقی کو تسلیم کرنے میں ناکامی ہمارے شاندار سفر کو بدنام کرتی ہے۔"

"دنیا بھر کی بہت سی خواتین کی طرح ہم نے ٹینس کی عبقری کھلاڑیوں کو نئی راہ دکھانے والے رول ماڈل کے طور پر دیکھا … جو امید کی کرن ہیں کہ خواتین واقعی یہ سب حاصل کر سکتی ہیں۔ لیکن ان چیمپئنز نے انہی خواتین سے منہ موڑ لیا ہے جن کو انہوں نے متأثر کیا تھا اور یہ بات مایوس کن ہے۔"

سفیرہ کے مطابق سعودی خواتین 300,000 سے زیادہ کاروبار اور تقریباً 25 فیصد چھوٹے اور درمیانے حجم کی سٹارٹ اپس کمپنیوں کی مالک ہیں – یہ تقریباً وہی حجم ہے جو امریکہ خواتین کی نمائندگی کے لیے بطور ترقی انڈیکس پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمومی طور پر مردوں کے مخصوص سمجھے جانے والے شعبوں - فوج، فائر بریگیڈ، قانون اور قانون کا نفاذ حتیٰ کہ خلائی تحقیق - بھی سعودی عرب میں خواتین کے لیے کھلے ہیں۔

شہزادی ریما نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: سعودی عرب میں خواتین کو بھی مساوی تنخواہ ملتی ہے، جس کا اطلاق تاحال تمام دنیا میں ہونا ہنوز باقی ہے۔

انہوں نے کہا، "اگرچہ ابھی کام کرنا باقی ہے لیکن خواتین کے لیے حالیہ پیش رفت، افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت اور ان کے لیے پیدا کردہ سماجی اور ثقافتی مواقع واقعی بہت دور رس ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔"

کھیلوں میں بہت ترقی ہوئی ہے جس میں خواتین کی کھیلوں کی لیگز اور فیڈریشنز کا آغاز بھی شامل ہے۔ سعودی عرب میں 330,000 سے زیادہ رجسٹرڈ خواتین ایتھلیٹس ہیں جن میں 14,000 فعال طور پر ٹینس کھیل رہی ہیں۔

مملکت میں ہزاروں خواتین کوچز، سرپرست، ریفری اور اسپورٹس ڈاکٹرز کام کر رہی ہیں۔ سعودی خواتین کھیلوں میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں – اور جیت بھی رہی ہیں۔

امریکہ میں سعودی سفیرہ نے کہا، سعودی خواتین کو نشانہ بنانے اور ان سب کو بے زبان لکھنے سے "خواتین کی نہ صرف کھیلوں میں ترقی کو بلکہ افسوسناک طور پر انکی مجموعی ترقی کو بھی نقصان پہنچائے گا"۔

جھوٹے دعوے

سفیرہ خادم الحرمین الشریفین نے کہا، یہ دعوے جھوٹے ہیں کہ مملکت میں سرپرستی کے قوانین خواتین کی آزادی کو محدود کرتے ہیں اور انہیں سفر کرنے، کام کرنے یا گھر کا سربراہ بننے کے لیے مرد سرپرست کی منظوری لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بیان میں کہا، کالم نگار کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ سعودی عرب کی لڑکیوں کو اپنے ملک میں پیشہ ورانہ ٹینس ٹورنامنٹ دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔ بظاہر ہم تیار نہیں ہیں۔"

"وہ کہتے ہیں کہ "سعودی قانون بنیادی طور پر خواتین کو مردوں کی ملکیت بناتا ہے۔" اس پر میں صرف اتنا کہوں گی: اپنے حقائق کو درست کیجیے۔"

"میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں اولمپک رنر یاسمین الدباغ، مارشل آرٹس کی مدمقابل تہانی القحطانی، یا ابھرتی ہوئی ٹینس سٹار یارا الحقبانی اپنی کارکردگی کو اس سے آگے نہیں بڑھا رہی ہیں جس سے ان کے خیال میں خواتین کے حقوق کے بارے میں آپ کے تأثر کو تبدیل کرنا ممکن ہے۔ یہ خواتین اپنے لیے، اپنی ساتھی سعودی لڑکیوں اور خواتین کے لیے اور اپنے ملک کے لیے آگے کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔

میز پر ایک نشست

اگرچہ سعودی عرب میں خواتین کے ٹینس ٹورنامنٹ کے انعقاد کی مخالفت کرنے والوں کے ارادے نیک ہو سکتے ہیں اور وہ خود کو خواتین کے لیے عالمی مساوات کے وکیل کے طور پر دیکھتے ہیں، سفیر کہتی ہیں کہ انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مملکت کے بھی یہی مقاصد ہیں۔

شہزادی ریما نے لکھا، "ہم ایک ہی چیز چاہتے ہیں - سعودی عرب میں، دیگر امیر اور غریب ممالک میں اور آپ کے ہاں۔ ہم اس بات کو تسلیم اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ خواتین کی ترقی کے بارے میں ایک صحت مند بحث ہونی چاہیے۔"

جب کہ مملکت "ابھی تک خواتین کے لیے بہترین جگہ نہیں ہے" وہ کہتی ہیں، "سعودی عرب میں ترقی ایک مستقل شے ہے جہاں خواتین شاید دنیا کے کسی بھی حصے سے زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہیں۔"

سفیر نے وضاحت کی، عالمگیر مساوات کے لیے ضروری ہے کہ سعودی خواتین کو خارج اور ان کی ترقی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ "ہمارے مشترکہ مقصد" کے حصول کے لیے متعصبانہ تنقید کے بجائے نتیجہ خیز مکالمہ ضروری ہے۔

شہزادی ریما نے کہا، "جو لوگ ہماری خواتین کو ان مواقع سے محروم کرنا چاہتے ہیں جن سے دوسری خواتین لطف اندوز ہوتی ہیں، ان کے لیے میں کہتی ہوں کہ جو کچھ میں نے بلند اور واضح طور پر سنا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی میز پر میرے لیے کوئی جگہ نہیں۔ لیکن میں ان کا استقبال کروں گی۔ کیونکہ میری میز سیاسی نظریات، سرحدوں، نسل یا جغرافیہ تک محدود نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں