کن 9 خصلتوں والے افراد سے دوری اختیار کرلینی چاہیے، ماہرین نفسیات نے بتا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بہتر اخلاقی اور جسمانی تندرستی سے لطف اندوز ہونے کے مقصد کے ساتھ دوستوں اور جاننے والوں کے ساتھ بات چیت کرنا ہمیشہ ضروری ہے۔ تاہم بسا اوقات یہ جاننا آسان نہیں ہوتا ہے کہ دوست بننے کے لیے صحیح شخص کون ہے۔ اور ایسے افراد کونسے ہیں جن کے ساتھ دوستی کرنے پر ان کی شخصیت بری خصلتیں دوسرے پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور ان سے کنارہ کشی کر لینا بہتر ہے۔ اس حوالے سے ویب سائٹ ’’geediting‘‘ نے آگاہی فراہم کی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق کچھ خاص قسم کے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی زندگی کو اچھا کرنے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ایسے افراد سے لاتعلق ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔

1. منفی توانائی والا شخص

ہر کوئی اداسی اور پست حوصلے کے ادوار سے گزرتا ہے اور یہ زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن مشکل مرحلے سے گزرنے اور مسلسل منفی انداز اختیار کرنے میں بڑا فرق ہے۔ نفسیات کے مطابق منفی رویے کا مسلسل اظہار کسی شخص کی ذہنی توانائی کو ختم کر سکتا اور ممکنہ طور پر زندگی کے بارے میں اس کے نقطہ نظر کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے افراد سے دوستی بلا ضرورت اپنے کندھوں پر اضافی بوجھ لادنا ہے۔

2. بہت زیادہ باتونی

نفسیات بتاتی ہے کہ ہمیشہ کی گپ شپ اعتماد میں کمی کا باعث بن سکتی ہے اور زہریلا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ اگر کسی کو پتہ چلے کہ اس کا دوست اپنی زندگی سے زیادہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہ ایک ریڈ لائن ہے کہ یہ دوستی اچھی طرح سے کام نہیں کر رہی۔

3. خود غرض

دوستی ایک دو طرفہ راستہ ہے۔ اس کے لیے باہمی احترام، افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کو سننے کی آمادگی درکار ہوتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہمیشہ ایک دوست ایسا ہوتا ہے جو ہر گفتگو کو اپنی زندگی، اپنے مسائل اور اپنی کامیابیوں کی طرف موڑ دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات اس طرز کے لوگوں سے دوستی ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جن کا رویہ نرگسیت کی علامات پیش کر رہا ہوتا ہے۔

4. صرف اچھے دنوں کے ساتھی

سچے دوست اچھے اور برے وقت میں دوست ہوتے ہیں۔ جب حالات مشکل ہو جاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب زندگی اچھی گزر رہی ہو تو جشن بھی ساتھ مناتے ہیں۔ تاہم کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جو صرف اچھے دنوں میں نظر آتے اور مشکل وقت میں غائب ہوجاتے ہیں۔ ایسے افراد سے سلام کرلینا ہی بہتر ہے۔

5. مسلسل نقاد

تعمیری تنقید زندگی کا حصہ ہے۔ دوسروں سے ملنے والے تاثرات سے کوئی بھی شخص ترقی کرتا ہے۔ لیکن تعمیری تنقید اور مسلسل منفی تنقید کے درمیان ایک واضح لکیر ہے۔ درحقیقت مسلسل تنقید جذباتی غنڈہ گردی کی ایک شکل ہے۔ نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل تنقید کا سامنا خود اعتمادی میں کمی اور تناؤ کی سطح میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔ ارد گرد کوئی شخص تنقید کرکے مسلسل ہراساں کرتا نظر آئے تو یہ اس رشتے کا ازسر نو جائزہ لینے کا وقت ہے۔

6. وعدہ خلافی کرنے والا

اعتماد دوستی سمیت کسی بھی اچھے رشتے کی بنیاد ہے۔ جب کوئی مسلسل اپنے وعدوں کو توڑ رہا ہو تو یہ چیز دوستی کی بنیاد ہلا رہی ہوتی ہے۔ اکثر اوقات آخری لمحات میں منصوبوں اور معاہدوں کو منسوخ کرنا اور ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا دوستوں میں اعتماد کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ ایسے لوگوں سے کترانا شروع کردینا چاہیے۔

7. جذباتی طور پر سیال

کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کو جو دوسرے کے لیے جھک کر کندھے کی پیشکش کرنے کے بجائے اس کے جذبات کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے دوست کو اکثر ’’جذباتی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہمیشہ سوچتے ہیں کہ ان کا دوست حد سے زیادہ رد عمل ظاہر کر رہا ہے یا بہت زیادہ حساس ہے۔ ان سے نمٹنے کے دوران دوسرا شخص خود پر شک کرنے لگتا اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے۔

8. صرف لینے والا

دوستی دینے اور لینے کے بارے میں ہے۔ ایک یک طرفہ دوست ہمیشہ چیزوں کی وصولی پر ہوتا ہے ، وہ تعاون اور وقت کو قبول کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے اور جب اس کے دوست کو بدلے میں اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اکثر دستیاب نہیں ہوتا۔ نفسیات صحت مند تعلقات کو برقرار رکھنے میں باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ یک طرفہ دوستی ناراضی اور مایوسی کے جذبات کا باعث بن سکتی ہے۔

9. زہریلا دوست

دوست کی سب سے زیادہ نقصان دہ قسم ایک زہریلا دوست ہے۔ یہوہ دوست ہے جو اپنے دوست کو اپنے قول و فعل سے مسلسل تکلیف دیتا ہے۔ نفسیات اس ان شدید اثرات سے خبردار کرتی ہے جو زہریلے تعلقات کے دماغی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔ کسی بھی دوست کے ساتھ کوئی بھی رشتہ جو مسلسل کسی کو احساس کمتری، ناخوش یا دباؤ کا شکار بناتا ہے اسے فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں