ایران کے خلاف جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہوتے ہی امریکی سینٹرل کمانڈ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹریپولی خطے میں پہنچ گیا ہے ۔ اس پر 3500 سیلرز اور میرینز موجود ہیں۔ سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یو ایس ایس ٹریپولی پر سوار امریکی ملاح اور میرینز 27 مارچ کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی ذمہ داری کے علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔
سینٹ کام کی پوسٹ کے مطابق ’’ امریکہ‘‘ کلاس کا یہ ایمفی بیئس اسالٹ شپ ٹریپولی ایمفی بیئس ریڈی گروپ / 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے فلیگ شپ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس پر تقریباً 3500 ملاح اور میرینز کے علاوہ ٹرانسپورٹ طیارے، لڑاکا طیارے، بحری و بری حملے کی صلاحیتیں اور مختلف تزویراتی اثاثے شامل ہیں۔ یو ایس ایس ٹریپولی کا ہیڈ کوارٹر جاپان کے ساسیبو بیس میں ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 850 فٹ ہے اور اس کی وزنی گنجائش 45000 ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔
U.S. Sailors and Marines aboard USS Tripoli (LHA 7) arrived in the U.S. Central Command area of responsibility, March 27. The America-class amphibious assault ship serves as the flagship for the Tripoli Amphibious Ready Group / 31st Marine Expeditionary Unit composed of about… pic.twitter.com/JFWiPBbkd2
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 28, 2026
بنیادی طور پر یہ بحری جہاز ایک چھوٹے طیارہ بردار بحری جہاز کی مانند ہے کیونکہ یہ ’’ ایف ۔ 35 ‘‘ سٹیلتھ لڑاکا طیاروں، ’’ ایم وی ۔ 22 ‘‘ سپرے ٹرانسپورٹ طیاروں اور فوجیوں کو ساحل تک پہنچانے کے لیے مخصوص لینڈنگ کرافٹس کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سال 2003 کے بعد سب سے بڑا فوجی اجتماع
مشرق وسطیٰ کا خطہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے تناظر میں 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے فوجی اجتماع کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہ جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت متعدد ایرانی رہنما جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اخبار "وال سٹریٹ جنرل" کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پاس اس وقت خطے میں 8 جنگی ڈسٹرائر جہاز موجود ہیں جن میں سے دو آبنائے ہرمز کے قریب، تین بحیرہ عرب کے شمال میں، ایک بحیرہ احمر میں اور دو مشرقی بحیرہ روم میں تعینات ہیں۔
ان تباہ کن بحری جہازوں کے علاوہ دو بڑے طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس ابراہام لنکن" اور "یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ" بھی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔ "جیرالڈ فورڈ" جدید نسل کا ایٹمی طیارہ بردار جہاز ہے جو دنیا اور امریکی بحریہ کا سب سے بڑا جہاز شمار ہوتا ہے۔ اسے ایک مربوط فضائی و بحری اسالٹ پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 337 میٹر ہے اور یہ 5600 سے زائد عملے کی گنجائش رکھتا ہے۔ دوسری طرف " یو ایس ایس ابراہام لنکن" ایک ایٹمی طیارہ بردار جہاز ہے جو لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی نقل و حمل اور بڑے پیمانے پر بحری و فضائی فوجی کارروائیوں کی معاونت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔