سلطنت آف عمان سمیت متحدہ عرب امارات میں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کو تاریخی قرار دینا بے جا نہ ہو گا۔ گذشتہ پون صدی سے خطے میں ایسی صورت حال دیکھنے کی مثال نہیں ملتی۔
گذشتہ دو روز میں ہونے والی بارشوں نے دبئی سمیت یو اے ای کی دیگر ریاستوں میں نظام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کی شام سے منگل تک ملکی تاریخ میں سے سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’وام‘ کے مطابق منگل کو ہونے والی بارش ’موسمیاتی اعبتار سے ایک تاریخی واقعہ ہے‘ جو 1949 کے بعد سے اب تک سب سے غیر معمولی ہے جس کے بعد زندگی کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
یو اے ای میں سب سے زیادہ بارش ریاست فجیرہ میں ہوئی ہے جہاں 24 گھنٹوں کے دوران 145 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جب کہ دبئی میں 142 ملی میٹر برسات ریکارڈ کی گئی۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق یو اے ای کی ساتوں ریاستوں میں طوفانی بارشوں کے پیش نظر اسکول بند ہیں اور سرکاری محکموں کے ملازمین بھی دفاتر نہیں پہنچ پائے ہیں۔ غیر معمولی بارش نے دبئی اور شارجہ سمیت مختلف علاقوں کی سڑکیں، رہائشی عمارتیں اور انفرااسٹرکچر کو متاثر کیا ہے۔
منگل کی شام سے اگرچہ بارش کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ لیکن طوفانی بارشوں کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کا معاشی مرکز دبئی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شامل اس کے ایئر پورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی تعطل کا شکار ہے۔
عملے اور مسافروں کے ایئر پورٹ پہنچنے میں مشکلات کے باعث بدھ کو بھی دنیا کی بڑی ایئرلائنز میں شامل ایمریٹس کی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے۔ دبئی کی کئی شاہراہوں پر برسات کا پانی جمع ہے اور کئی علاقوں میں میٹرو سروس بھی معطل ہے۔
🔴🇦🇪: هذا المقطع صوره شخص اجنبي موجود في دبي الان وحقق انتشار وتفاعل كبير لانه مان مصدوم من كمية البرق، يقول ان التصوير مو مسرع وانها اول مره بحياته يشوف البرق مايتوقف بالشكل هذا… pic.twitter.com/jMPtiFyMTJ
— MOATH | معاذ (@M0ATH) April 16, 2024
دبئی میں معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے۔ ہوم ڈیلیوری سمیت فضائی سروس روک دی گئی، تاہم بعد میں موسم کے اندر بہتری پر اسے بحال کر دیا گیا۔ حکام کی جانب سے شہریوں اور مقیم افراد کو جاری کردہ وارننگ میں ہدایت کی گئی تھی کہ انتہائی ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کیا جائے جس کے بعد عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بھری ہوئی سڑکیں سنان ہو گئیں۔
عاصفة دبي اليوم ، كانت قوية جداً لم تشهدها في تاريخها الحالي ، على الاقل لم اشاهد مثلها ابدا .. كانت دبي صامدة خلال موجة تاريخية لم تخلف اي خسائر بشرية الحمد لله او كارثة كبرى!
— أحمد خليفة (@_A_khalifa) April 16, 2024
فيديو للتاريخ في اول دخول للعاصفة الكبيرة .. pic.twitter.com/k5VwOQXOOK
کثیر منزلہ عمارتوں اور ابراج کے اندر لفٹس شدید بارشوں کی وجہ سے بند ہوگئیں۔ بلند و بالا عمارتوں پر وقفے وقفے سے آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے وارننگ سائرن اور خطرے کے نشان روشن ہونے لگے۔
ملک کے اکثر علاقوں میں تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ آن لائن کلاسسز کا اجرا کر دیا گیا، حکام نے اس حکم نامے کو آج بروز بدھ کر نافذالعمل رہنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو یو اے ای کے کئی ریگستانی علاقوں میں 254 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جو دو برس کی اوسط سے بھی زائد بنتی ہے یعنی ایک دن میں دو سال جتنی بارش ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھاری مقدار میں بارش ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں ہائی ویز کے حصے بھی زیرِ آب آگئے ہیں۔
یو اے ای میں اب تک بارش سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم یو اے ای کی مقامی میڈیا کے مطابق راس الخیمہ میں برساتی ریلے میں گاڑی پھنسنے سے ایک شخص ہو گیا ہے۔
یو اے ای کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک بحرین، قطر اور سعودی عرب میں بارشیں جزیرہ نما عرب سے گزر کر خلیجِ عمان کی جانب جانے والے طوفانی سسٹم کی وجہ سے ہو رہی ہں۔بارشوں سے سب سے زیادہ تباہی عمان میں آئی ہے جہاں اب تک 19 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی
متحدہ عرب امارات کے کچھ اندرونی علاقوں میں 24 گھنٹے کے دوران 80 ملی میٹر (3.2 انچ) سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جو تقریباً 100 ملی میٹر کی سالانہ اوسط کے قریب ہے۔
اماراتی اور عمانی دونوں حکومتیں پہلے خبردار کر چکی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مزید سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
انفرادی موسمی واقعات کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنا اکثر مشکل ہوتا ہے، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے شدید موسمی واقعات کے امکانات اور طاقت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
بحرین بھی رات بھر گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کی وجہ سے سیلاب کی زد میں آ گیا۔
یاد رہے کہ ایشین چیمپئنز لیگ فٹبال کا سیمی فائنل متحدہ عرب امارات کے العین اور سعودی ٹیم الہلال کے درمیان العین میں ہونے والا تھا جسے موسم کی خرابی کی وجہ سے 24 گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔