ایران کے قشم اور گورک جزائر میں ساحلی ریڈار تنصیبات پر امریکی حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف ڈرون بھیجے جانے کے ردِعمل میں کیے گئے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں، تو آبنائے ہرمز کو تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کے روز جاری بیان میں مزید دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی حملوں کے ردِعمل میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے چار آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی ،جو اس کے بقول اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
جھوٹے دعوے
دوسری جانب امریکی فوج نے آج پہلے بتایا کہ ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق ان میں سے چھ میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
Moments ago, CENTCOM forces shot down four Iranian one-way attack drones that were launched toward the Strait of Hormuz. The attack drones posed an immediate threat to regional maritime traffic. U.S. forces subsequently struck Iranian coastal surveillance radar sites in Goruk and…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 5, 2026
امریکی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا: ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک میزائل فائر کیے۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق چھ میزائلوں کو روک لیا گیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہےاور اس بات پر زور دیا کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے سے متعلق ایرانی دعوے جھوٹے ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ،جب آج علی الصبح کویت ایئرپورٹ اور بحرین کے دارالحکومت منامہ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
بحرینی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجانے کا اعلان کیا۔ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکزی اڈہ موجود ہے۔
وزارت داخلہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں، شہری اور مقیم افراد پرسکون رہیں، قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر نظر رکھیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی، جب تین روز قبل کویت ایئرپورٹ پر ایک ایرانی حملہ ہوا تھا ،جس میں ایک شخص ہلاک اور 63 زخمی ہوگئے تھے، جبکہ ملک کے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
اس وقت کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے 30 ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا جو کویتی سرزمین کو نشانہ بنا رہے تھے۔
موجودہ عسکری کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے تعطل کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی ادائیگی کے طریقۂ کار، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے کھولنے کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
اس دوران پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت اسے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدن تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، اس کی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ حاصل ہونا چاہیے۔
ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کو شدید متاثر کیا ہے۔
28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔
دوسری جانب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کسی قسم کی پابندی قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ واشنگٹن نے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کے طریقۂ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات میں مزید سختی اختیار کی ہے۔