کیا نیتن یاہو حکومت غزہ کے معاملے پر اندرونی تنازعات کو برداشت کر پائے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ میں جنگ کے حوالے سے اسرائیلی حکومت میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب وزیر دفاع گیلنٹ نے عوامی بیان میں جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں انتظامات کے حوالے سے وزیر اعظم نیتن یاہو سے ایک واضح حکمت عملی کا مطالبہ کردیا۔

گیلنٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ کی پٹی کو چلانے کے لیے ایک فوجی حکومت کی تشکیل پر رضامند نہیں ہوں گے۔ ان کا یہ بیان سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اس بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کر رہا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس جنگ کے بعد غزہ میں انتظام سنبھالنے کے حوالے سے کوئی ویژن نہیں ہے ۔

ان کے تبصروں نے دو سابق فوجی جرنیلوں اور موجودہ حکومت کے سینٹرسٹ ممبران کے درمیان شدید تقسیم کو بھی اجاگر کردیا۔ سابق فوجی جرنیلوں بینی گینٹز اور گاڈی آئزن کوٹ نے گیلنٹ کی کال کی حمایت کی اور انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست مذہبی جماعتیں جن کی قیادت وزیر خزانہ بیزیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر بن گویر کر رہے ہیں نے گیلنٹ کی مذمت کی۔

دائیں بازو کے اخبار "یسرائیل ہیوم" نے اپنے شمارے کا ادارتی عنوان "یہ جنگ کرنے کا طریقہ نہیں ہے" رکھا اور اس میں لگائی گئی تصویر میں دکھایا گیا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ مختلف سمتوں میں دیکھ رہے ہیں۔ حماس کو ختم کرنے اور اس کے زیر حراست 130 اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے علاوہ نیتن یاہو نے فوجی مہم کو ختم کرنے کے لیے کوئی واضح سٹریٹجک ہدف نہیں بتایا ہے۔

نیتن یاہو نے بین گویر اور سموٹریچ کی حمایت سے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام میں فلسطینی اتھارٹی کی کسی بھی شرکت کو مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کا قیام تین دہائیاں قبل اوسلو عبوری امن معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اسے بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ جائز فلسطینی حکمران ادارہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

نیتن یاہو اپنے بکھرتے ہوئے اتحاد کو ایک ساتھ رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اب تک حماس پر مکمل فتح کے اپنے عہد پر قائم ہے۔ یاھو نے بدھ کو سی این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ غزہ کی پٹی کا انتظام ایک ایسی شہری انتظامیہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے جو حماس سے وابستہ نہ ہو۔

اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے فلسطینی قبائلی رہنماؤں یا سول سوسائٹی کی دیگر شخصیات کو لایا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے کسی ایسے رہنما کی نشاندہی نہیں کی گئی جو حماس کی جگہ لینے کا اہل بھی ہو اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے پر راضی بھی ہو۔ اس حوالے سے اب تک کسی عرب ملک نے بھی مدد کی پیشکش نہیں کی ہے۔

تشاتام ہاؤس میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے پروگرام میں ایسوسی ایٹ فیلو یوسی مائیکل برگ نے کہا کہ اسرائیل کے لیے آپشنز یہ ہیں کہ وہ یا تو جنگ کو ختم کر کے پیچھے ہٹ جائیں یا وہاں ہر چیز کو چلانے کے لیے ایک فوجی حکومت قائم کرے اور ایک مدت تک پورے خطے کو کنٹرول کرلے جس کا انجام کسی کو معلوم نہیں ہے۔ کیونکہ جب بھی اسرائیل وہاں سے نکلے گا تو حماس دوبارہ ابھر آئے گی۔

گوریلا جنگ

گیلنٹ کی جانب سے کسی بھی قسم کی مستقل فوجی حکمرانی پر غور کرنے سے انکار سے ایسے مادی اور سیاسی آپریشن کی عکاسی بھی ہوتی ہے جس پر 1982 میں عمل کیا گیا تھا۔ اس وقت جنگ کے بعد جنوبی لبنان پر برسوں سے جاری اسرائیلی قبضہ کیا گیا اور اسرائیل کی فوج اور معیشت کو بری طرح متاثر ہونا پڑا تھا۔

ایک سابق انٹیلی جنس افسر اور اسرائیل میں حماس کے سب سے ممتاز ماہرین میں سے ایک مائیکل ملشٹین نے کہا ہے کہ غزہ پر مکمل کنٹرول کے لیے ممکنہ طور پر چار بٹالین یا تقریباً 50 ہزار فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔

اسرائیل کی جانب سے مہم میں حماس کے ہزاروں جنگجوؤں کے مارے جانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حماس کی زیادہ تر منظم بریگیڈز منتشر ہو چکی ہیں۔ چھوٹے گروپ ان علاقوں میں ابھرے ہیں جنہیں فوج نے جنگ کے ابتدائی مراحل میں چھوڑ دیا تھا۔ مائیکل ملشٹین نے کہا یہ ایک بہت لچکدار تنظیم ہے اور بہت تیزی سے ڈھال سکتی ہے۔ انہوں نے گوریلا جنگ کے نئے انداز کو اپنا لیا ہے۔

ایک ممکنہ طویل تنازع کی قیمت بدھ کو اس وقت بھی ظاہر ہوئی جب ایک اسرائیلی ٹینک نے "دوستانہ فائر" کے واقعے میں اپنے ہی پانچ فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی افواج غزہ شہر کے شمال میں جبالیہ کے علاقے میں شدید لڑائی میں مصروف تھیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ہگاری نے کہا ہے کہ فوج کا مشن ان مقامات کو ختم کرنا ہے جہاں سے حماس واپس آتی ہے اور خود کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ حماس کے متبادل حکومت کے بارے میں کسی بھی سوال کا جواب سیاسی سطح پر ہی دیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ زیادہ تر سرویز ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی وسیع پیمانے پر جنگ کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ وقت کے ساتھ ساتھ حمایت کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ زیادہ لوگ حماس کو ختم کرنے کے بجائے قیدیوں کی واپسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جنگ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو آگے چل کر جنگ کی حمایت مزید کمزور ہوجائے گی۔

الٹرا آرتھوڈوکس یہودی طلبہ کی فوج میں بھرتی پر طویل عرصے سے جاری تنازع میں کچھ وسیع تر سماجی تقسیم کے پھوٹ پڑنے کا بھی امکان ہے۔ نیتن یاہو اب تک کسی بھی اتحادی پارٹی کے الگ ہونے سے بچتے آرہے ہیں اور اس طرح ان کی حکومت برقرار ہے۔

لیکن گیلنٹ اکثر سموٹریچ اور بین گیویر کے ساتھ اختلافات کرتے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم کو ان کا تازہ ترین چیلنج غزہ کے انتظامات کے حوالے سے حکمت عملی سامنے لانے کا مطالبہ ہے۔ اس سے قبل گیلنٹ نے پچھلے سال ججوں سے اختیارات واپس لینے کے منصوبے پر حکومت کے اندر سے نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں