’’مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا‘‘ ایرانی صدر کی ہیلی کاپٹر کریش ہونے سے قبل آخری سرگرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کا اعلان کرنے کے بعد ان کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ بعض میڈیا ذرائع نے ہیلی کاپٹر تلاش کرنے کا دعویٰ کیا تو ہلال احمر نے ان دعوؤں کی نفی کردی۔ بعد ازاں ایران کے نائب صدر برائے ایگزیکٹو امور محسن منصوری نے بتایا کہ ایرانی صدر کے وفد میں شامل دو افراد کا ریسکیو ٹیم سے رابطہ ہوگیا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر میں صدر رئيسی کے ساتھ ایرانی وزير خارجہ حسین امیرعبداللہیان، مشرقی آذر بائيجان کے گورنر مالک رحمتی اور ایرانی سپریم لیڈر کے ترجمان بھی سوار تھے۔

Advertisement

حادثہ سے قبل ابراہیم رئیسی کی آخری سرگرمی کے حوالے سے تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ متعدد بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی تازہ ترین تصاویر شائع کی ہیں جن میں ان کے ساتھ آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف بھی موجود ہیں۔ اتوار کے اوائل میں دونوں نے دریائے آراس پر ڈیم کا افتتاح کیا۔

شائع کی گئی تصاویر میں ابراہیم رئیسی کو ایک ایرانی وفد کے ہمراہ ایران کے پڑوسی ملک آذربائیجان کے سرکاری دورے کے دوران دکھایا گیا۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثہ سے چند گھنٹے پہلے کے مناظر ہیں۔ ابراہیم رئیسی ایک تصویر میں مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلاتے ہوئے دکھائی دئیے۔ ساتھ ہی الہام علی یوف بھی موجود ہیں۔

دوسری تصاویر میں ابراہیم رئیسی الہام علی یوف سے مصافحہ کرتے نظر آئے۔ دیگر میں وہ مشترکہ ملاقاتوں میں ایک ساتھ نظر آئے۔ ابراہیم رئیسی اتوار کی صبح ایران کے مشرقی ملک آذربائیجان کا دورہ کر رہے تھے۔

ابراہیم رئیسی کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سرد تعلقات کے باوجود تھا۔ 2023 میں تہران میں آذربائیجان کے سفارت خانے پر مسلح حملہ کے بعد سے اور آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد سے دونوں ملکوں میں تعلقات میں سرد مہری قائم تھی۔

ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کو لے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر اتوار کو آذربائیجان کی سرحد کے دورے سے واپسی پر گہری دھند میں گھرے پہاڑی علاقے سے پرواز کرتے ہوئے گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں سوار افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

خراب موسم

سرکاری ٹیلی ویژن نے حادثے کے علاقے کو جولفا شہر کے قریب بتایا۔ یہ علاقہ آذربائیجان کی سرحد پر واقع ہے اور ایرانی دارالحکومت تہران سے تقریباً 600 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے کہا ہے کہ صدر اور ان کے ساتھی کچھ ہیلی کاپٹروں پر سوار ہو کر واپس جا رہے تھے۔ قافلے میں شامل ہیلی کاپٹروں میں سے ایک ایک ہیلی کاپٹر خراب موسم اور دھند کی وجہ سے اترنے پر مجبور ہوگیا اور دھند کے باعث ہیلی کاپٹر تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں