کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سےجسم پر مرتب ہونے والے مضر اثرات پر ماہرین کیا کہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی اخبار’ہندوستان ٹائمز‘کی رپورٹ کے مطابق ماہر خوراک کرشمہ شاہ نے کھانے کے فوراً بعد پانی نہ پینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشورے کے پیچھے وجوہات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

کرشمہ نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ہاضمے کے لیے کھانے کے بعد پانی پینے کا بہترین وقت 10 سے 30 منٹ کے درمیان ہوتا ہے۔

اس حوالے سے درج ذیل نکات اہم ہیں

زود ہضم جوس یا پانی معدے پر اثرانداز ہوتا ہے

کھانے کے فوراً بعد پانی پینا معدے کے تیزاب اور ضروری خامروں کو پتلا کر سکتا ہے، جس سے عمل انہضام سست ہو جاتا ہے۔ پانی کو ایک ہی دفعہ نہیں پینا چاہے بلکہ رک رک کر ایک ایک گھونٹ پیناچاہیے۔

غذائی اجزاء کے جذب کو کم کریں

دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے غذائی اجزاء کا جذب خراب ہو جاتا ہے، کیونکہ پانی ہاضمے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے لیکن اہم غذائی اجزاء کو مؤثر طریقے سے جذب کرنے کو متاثر کرسکتا ہے۔

ہاضمے کے خامروں کو پتلا کرنے کا باعث

آپ کو کھانے کے ساتھ پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ معدے میں موجود ہاضمے کے خامروں کو پتلا کرتا ہے۔ کھانے سے 10 منٹ پہلے یا بعد میں پانی پیا جا سکتا ہے۔

انسولین کی سطح پر اثر

کچھ شواہد بتاتے ہیں کہ کھانے کے فوراً بعد پانی پینا انسولین کی سطح میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے چربی کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے۔

مناسب ہائیڈریشن حاصل کرنے کے لیے

زیادہ سے زیادہ ہاضمہ اور صحت کے لیے پانی کی بوتل تک پہنچنے سے پہلے کھانے کے بعد خود کو 30 منٹ کا وقفہ دینا بہتر ہے۔ یہ عارضی وقفہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کھانا ہضم ہو رہا ہے اور وہ مناسب طور پر ہائیڈریٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں