20 ملین ڈالر سے ریاض اینٹی کرپشن پلیٹ فارم، سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی نگرانی اور انسداد بدعنوانی اتھارٹی ’’ نزاہہ‘‘ اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے 20 ملین ڈالر سے ریاض اینٹی کرپشن پلیٹ فارم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں۔ پلیٹ فارم انسداد بدعنوانی سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گلوبل آپریشنز نیٹ ورک (GlobE) کے درمیان معلومات کا تبادلہ کرے گا۔ معاہدے پر دستخط کرنے میں مملکت کی نمائندگی کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی کے سربراہ مازن الکھموس نے کی اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی جانب سے دفتر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر گادہ ولی نے کیے۔

مازن الکھموس نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کی ضرورت کے مطابق انسداد بدعنوانی سے متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان براہ راست رابطے اور تعاون کے طریقہ کار کی کمزوری کی وجہ سے ان ممالک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا پلیٹ فارم کے قیام کے لیے مملکت سعودی عرب کی حمایت مملکت کے اس شعور کی تصدیق کرتی ہے کہ بدعنوانی ایک سرحد پار جرم ہے۔ اور یہ کہ قریبی بین الاقوامی تعاون کے بغیر بدعنوان لوگوں اور ان کے پیسے کی محفوظ پناہ گاہوں کو محدود کرنا ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے یہ نیٹ ورک 3 جون 2021 کو ویانا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے خصوصی اجلاس کے کام کے موقع پر شروع کیا گیا ۔ اس موقع پر یو این سیکرٹری جنرل گوتریس نے عالمی سطح پر انسداد بدعنوانی نیٹ ورک قائم کرنے میں مملکت کے کردار کو سراہا۔

بعدازاں اقوام متحدہ نے 17 دسمبر 2021 کو سرکاری طور پر ریاض انیشیٹو نیٹ ورک کو اپنایا۔ یہ کام شرم الشیخ میں منعقد ہونے والے بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے ریاستی فریقین کی کانفرنس کے نویں اجلاس کے دوران کیا گیا۔

سپین کو نیٹ ورک کی سٹیئرنگ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا جبکہ سعودی عرب کو سٹیئرنگ کمیٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں دنیا بھر کے 115 سے زائد ممالک اور 205 انسداد بدعنوانی ایجنسیوں نے اس نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس طرح اس نیٹ ورک کو وسیح حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

ریاض انیشیٹو نیٹ ورک دنیا کے ممالک کے لیے ترقیاتی فوائد حاصل کرتا ہے۔ خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو اس نیٹ ورک میں شامل ہوتے ہیں۔ ان فوائد کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کے مطابق عالمی سطح پر بدعنوانی کا حجم تقریباً 2.6 ٹریلین ڈالر سالانہ ہے۔ اس رقم میں سے ایک ٹریلین ڈالر سالانہ صرف رشوت کی صورت میں ضائع ہوتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بدعنوانی ترقی اور خوشحالی کی پہلی دشمن ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریاض انیشیٹو نیٹ ورک ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے بدعنوانی سے نمٹنے اور بدعنوانی کے نقصان کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں