میڈیا کے حلقوں میں یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ ایم بی سی گروپ اپنے دفاتر کو شام منتقل کرلے گا۔ تاہم چند گھنٹوں میں ہی ایم بی سی نے ان خبروں کی تردید کردی اور کہا ہے کہ MBC گروپ کا لبنان اور ترکیہ میں اپنے دفاتر کو شام خاص طور پر دمشق میں منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں مزید کہا گیا تھا کہ گروپ اپنی ڈرامہ انڈسٹری فاؤنڈیشن کے آپریشن سینٹر کو شام منتقل کرنے کے لیے شام کے ایک معروف تاجر کے ساتھ شراکت داری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ گروپ نے اس معاملے کی مکمل تردید کردی ہے۔ ایم بی سی میں کارپوریٹ کمیونیکیشنز کے جنرل ڈائریکٹر بسام البریکان نے کہا کہ گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔
بسام البریکان نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات چیت میں بتایا کہ گروپ کا ہیڈ کوارٹرز سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع ہے۔ گروپ متحدہ عرب امارات سے مملکت سعودی عرب میں منتقلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پیداواری عمل عام طور پر کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ ہر پروجیکٹ کی اپنی پیداواری شرائط ہوتی ہیں جو دوسرے پروجیکٹ سے مختلف ہوتی ہیں۔
بسام البریکان نےکہا ان منصوبوں کی خوبیاں ہی فوٹو گرافی کے مقامات اور آلات کا تعین کرتی ہیں۔ جہاں تک ایک معروف شامی تاجر کے ساتھ شراکت داری کا تعلق ہے تو یہ محض بے بنیاد خبریں اور افواہیں ہیں۔ گروپ کی ڈرامہ سازی کی کارروائیاں کسی جگہ سے منسلک نہیں ہیں بلکہ ہر کام کا الگ الگ منصوبہ بنایا گیا ہے۔
آسمان سے بلند تر خواہش
واضح رہے 2022 میں ایم بی سی میڈیا گروپ نے سعودی دارالحکومت ریاض میں حکام اور میڈیا پروفیشنلز کے ایک گروپ کی موجودگی میں اپنے ہیڈ کوارٹرز کا افتتاح کیا تھا۔ اس وقت گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے تقریب میں اپنی تقریر کے دوران سعودی عرب کی دانش مند قیادت کے زیر تحت سعودی عرب کی جامع بحالی اور عظیم ترقی پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایم بی سی گروپ کو سب سے نمایاں عالمی میڈیا اداروں میں سے ایک بنانے کے لیے پورے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آنے والے برسوں میں ایم بی سی گروپ کے اداروں میں بین الاقوامی کام دیکھنے کو ملیں گے جو عرب کی تاریخ سے اپنی کہانی لائیں گے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کہاوت سے لیے گئے نعرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہماری خواہش آسمان سے بلند تر ہے‘‘