امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جوابی حملوں کے تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کے علاقے گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 6, 2026
سینٹکام نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز اور خلیج کی جانب داغے گئے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا۔
بیان کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ یہ حملہ اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا، جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے چار ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا تھا۔
سینٹکام کا کہنا تھا کہ یہ ڈرونز خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہے تھے۔
امریکی کمانڈ کے مطابق بعد ازاں مزید ممکنہ بحری حملوں کو روکنے کے لیے ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار مراکز کو گورک اور جزیرہ قشم میں نشانہ بنایا گیا
سینٹکام نے مزید بتایا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق ایران کے داغے گئے سات میزائلوں میں سے چھ کو راستے میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے چار آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی جو اس کے بقول اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھ
قشم: ایک اہم اسٹریٹجک مقام
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرہ قشم، صوبہ ہرمزگان کا حصہ ہے اور انتہائی اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کے ایک حصے پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ بھی ہے، جہاں فوجی اور بحری تنصیبات کے علاوہ نگرانی کے ریڈار سسٹمز بھی موجود ہیں۔اس جزیرے میں آزاد تجارتی زونز کے ساتھ ساتھ تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں۔
دوسری جانب گورک صوبہ بوشہر میں خلیج عربی کے ساحل پر واقع ایک علاقہ ہے، جہاں ساحلی تنصیبات موجود ہیں جو نگرانی یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
ساحل کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ریڈار نصب کرنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ باہمی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب پاکستان کی ثالثی میں کئی ماہ سے جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
خاص طور پر بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ایران کا مؤقف ہے کہ 24 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے منجمد اثاثوں میں سے کم از کم نصف رقم فوری طور پر جاری کی جائے اور باقی بعد میں دی جائے، جبکہ امریکہ اس مطالبے پر تحفظات رکھتا ہے۔
اسی طرح جوہری پروگرام سے متعلق کئی معاملات بھی تاحال حل طلب ہیں، جن میں زیادہ افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، تاہم اپریل میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔