خبر دار! گرمیوں میں نعمت سمجھا جانے والا ’ایئر کنڈیشنر ‘3 بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اس میں کوئی شک نہیں کہ ائیرکنڈیشنر گرمیوں میں بھی ایک ناگزیر ضرورت سمجھا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق نے اس کے غلط استعمال کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

خطرناک بیماریاں

متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر لیوڈمیلا کٹاناخووا نے بتایا کہ ایئرکنڈیشنڈ کی وجہ سے کمرے میں ہوا کے معیارمیں تبدیلی ، مائیکروجنزم اور وائرس جنم لے سکتے ہیں جو ایئر کنڈیشنر کے اندر رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے پر کوئی شخص مختلف بیماریوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔ان میں بیکٹیریل، فنگل اور وائرل انفیکشن جیسے عوارض شامل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرآپ اسے صاف کرنے اور فلٹرز کو تبدیل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ یقیناً جب آپ اسے بغیر کسی رکاوٹ کے استعمال کرتے ہیں تو یہ خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایئر کنڈیشنراستعمال کریں جو ہوا میں نمی کو بہتر بنائیں۔

ڈاکٹرلیوڈ میلا کا کہنا ہے کہ عام نزلہ زکام کے علاوہ لوگ سائنوسائٹس اور ناک کی نالیوں کی سوزش کا شکار ہو سکتے ہیں،جو وائرس 90-98 فی صد کیسز اور بیکٹیریا میں 2-10 فی صد کیسز کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

انفیکشن کی تین قسمیں بھی ہوتی ہیں۔ شدید انفیکشن 2-4 ہفتوں تک، ہلکا سخت 4-12 ہفتوں تک اور دائمی 12 ہفتوں سے زیادہ دیرتک ہوتا ہے۔ سائنوسائٹس عام طور پر نزلہ زکام اور دیگر وائرل فنگل بیکٹیریل بیماریوں کے پس منظر کے خلاف پیدا ہوتا ہے۔

ایک اور بیماری جو ایئر کنڈیشنگ کی وجہ سے ہو سکتی ہے وہ گردن توڑ بخار ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو ڈھانپنے والی حفاظتی جھلیوں کا شدید انفیکشن ہوسکتا جس کا فوری علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق گردن توڑ بخار کی سب سے خطرناک قسم بیکٹیریل گردن توڑ بخار ہے۔

اس کے متاثرہ افراد میں سے نصف سے زیادہ 24 گھنٹے کے اندر مرجاتے ہیں اورجو زندہ بچ جاتے ہیں وہ بہرے پن کا شکار ہو جاتے ہیں یا بصارت کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایئر کنڈیشنر پہلے ہوا میں نمی کو کم کرتے ہیں جو ناک اور نظام تنفس کی جھلیوں کو خشک کرنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف جسم کی مزاحمت کو کمزور کرنے کا باعث بنتا ہے۔

یہ ایئر کنڈیشنر ایک بند چکرمیں کام کرتے ہیں جو تازہ ہوا تک رسائی کو روکتے ہیں،اس سے آکسیجن میں کمی ہوتی ہے اور قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

ایئر کنڈیشنر کوباقاعدگی سے صاف نہیں کیا جاتا ہے تو اس میں دھول، وائرس، بیکٹیریا، الرجین اور فنگس جمع ہو جاتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں 15 فیصد بالغ افراد ان بیماریوں کا شکار ہیں اور بچے اس سے زیادہ ہیں۔

علاج نہ ہونے کی صورت میں انفیکشن جسم کے دیگر اعضاء جن میں آنکھ، کان اور دماغ تک پھیل سکتا ہے جو جان لیوا بن جاتا ہے۔

ائیر کنڈیشنر استعمال کرتے وقت ان بیماریوں سے بچاؤ کی ماہر نے بتایا کہ گرمی کا موسم شروع ہونے سے پہلے اس کے تمام حصوں کو صاف کرنا چاہیے اور اسے کئی بار دہرانا چاہیے۔

طویل عرصے تک ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے کی بھی سفارش نہیں کی جاتی ہے۔

ٹھنڈک ہوا کا درجہ حرارت باہر کی ہوا کے درجہ حرارت سے صرف 5-7 ڈگری کم ہونا بہتر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size