سعودی عرب کے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر انجینئر عبداللہ السواحہ نے کہا ہے کہ گیمنگ اور ’الیکٹرانک کھیلوں‘ کے شعبے کو ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے جو حمایت اور توجہ حاصل ہے۔
ان کی اس شعبےمیں دلچسپی مملکت میں ’ای گیمز‘ کے مستقبل کے عزائم، مملکت کو اس صنعت کے لیے ایک مرکز بنانے اور دنیا کے مختلف حصوں سے ڈیجیٹل ٹیلنٹ کی کشش بڑھاتے ہوئے مملکت کے ویژن 2030 کے حصول میں مدد گار ثابت ہو گی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ریاض کی میزبانی میں منعقدہ "نئی گلوبل سپورٹس" کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انجینئر السواحہ نے سیشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت تیزی سے ’ای گیمز‘ کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس موقعے پر سعودی الیکٹرانک اسپورٹس فیڈریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ فیصل بن بندر بن سلطان بھی موجود تھے۔ انہوں جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کی تشکیل میں گیمز کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان جدید ٹیکنالوجیز میں سے کچھ جدید سعودی ماڈلز کو اجاگر کرتے ہوئے صحت کے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لیے گیمز کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے طالبہ راشا القحطانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رشا نے انٹرایکٹو گیمز تیار کیے جو دماغی صحت کو بہتر بنانے اور اضطراب کی خرابیوں کو دریافت کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح سعودی خلانورد علی القرنی جن کے کھیلوں کے شوق نے انہیں پائلٹ بننے اور پھر خلا تک پہنچنے کے اپنے خواب کو حاصل کرنے کی تحریک دی۔