روس اور یوکرین

واشنگٹن، لندن: پوتین یوکرین کی خودمختاری کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہوں گے

برطانوی، امریکی خفیہ اداروں کے سربراہان کا یوکرین کے حوالے سے 'مقصد پر قائم رہنے' کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سی آئی اے اور برطانیہ کی خفیہ سروس کے سربراہان نے ہفتے کے روز اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف یوکرین کی حمایت میں اپنے "مقصد پر قائم رہنا" پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے اور انہوں نے یوکرین اور دیگر چیلنجز پر تعاون کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور سیکرٹ انٹیلی جنس سروس کے چیف رچرڈ مور کی فنانشل ٹائمز میں اظہارِ رائے ایسی اولین تحریر ہے جو ان ایجنسیوں کے سربراہان نے مشترکہ طور پر تصنیف کی۔

دو سال قبل ان کے اداروں کی شراکت کے 75 سال مکمل ہو گئے، یہ نوٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، "شراکت داری ہمارے ممالک کے درمیان خصوصی تعلقات کا مرکز ہے۔"

انہوں نے کہا، ایجنسیاں "ایک جارح مزاج روس اور (روسی صدر ولادیمیر) پوتن کی یوکرین کے خلاف جارحیت کی جنگ کے خلاف مزاحمت میں ایک ساتھ کھڑی ہیں۔"

ایجنسیاں یوکرین کی انٹیلی جنس کی مدد جاری رکھیں گی، اس عزم کے ساتھ انہوں نے مزید کہا، "(یوکرین میں) اپنے مقصد پر قائم رہنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ پوتین یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔"

روسی افواج مشرقی یوکرین میں آہستہ آہستہ پیش قدمی کر رہی ہیں، یوکرین کے فوجی روس کے علاقے کرسک کے ایک بڑے حصے پر قابض ہیں اور کئیف امریکہ اور مغرب سے مزید فضائی دفاعی امداد کا خواہاں ہے۔

جاسوس ایجنسیوں کے سربراہان نے کہا کہ ان کی ایجنسیاں "روسی انٹیلی جنس کی یورپ کے طول و عرض میں سبوتاژ کی بے دریغ مہم" اور اس کے "ٹیکنالوجی کے قابلِ مذمت استعمال" کو ناکام بنانے کے لیے کام کرتی رہیں گی جو "ہمارے درمیان غلط فہمیاں اور ناراضی پیدا کرنے" کی غرض سے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔

روس نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے خلاف سبوتاژ اور غلط معلومات پر مبنی مہم چلانے کی تردید کی ہے۔

برنز اور مور نے نوٹ کیا کہ انہوں نے اپنی ایجنسیوں کو چین کے عروج کی طرز پر ڈھالنے کے لیے دوبارہ منظم کیا تھا جسے انہوں نے "21ویں صدی کا اصولی انٹیلی جنس اور جغرافیائی سیاسی چیلنج" قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ایجنسیوں نے شرقِ اوسط میں "کشیدگی کم کرنے اور تحمل مزاجی کی غرض سے سخت دباؤ ڈالنے کے لیے ہمارے انٹیلی جنس چینلز کا بھی فائدہ اٹھایا ہے۔" اور یہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے کام کر رہی ہیں جس سے "فلسطینی شہریوں کی جانوں کا ہولناک ضیاع" ختم ہو سکے اور حماس سات اکتوبر کے یرغمالیوں کو رہا کر دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں