سعودی عرب میں چین کے سفیر چانگ ہوا نے زور دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے یک طرفہ طور پر نافذ کیا جانے والا کسٹم ٹیرف عالمی اقتصادی نظام کے استحکام پر ایک "کاری ضرب" کے مترادف ہے۔ سفیر کے مطابق چین اس پالیسیوں کو مسترد کرتا ہے اور ان کی پر زور مذمت کرتا ہے۔
چینی سفیر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو میں باور کرایا کہ ان کا ملک بیرونی ماحول کے منفی اثرات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کی اقتصادی بنیادیں ابھی تک مضبوط ہیں۔ سال 2024 میں مجموعی مقامی پیداوار میں 5 فی صد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔
چین عرب ممالک کے ساتھ روابط مضبوط بنا رہا ہے
امریکی منڈی پر انحصار میں کمی سے متعلق سوال پر چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے گذشتہ برسوں کے دوران میں تجارتی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کرنے پر کام کیا۔ چین اس وقت 150 سے زیادہ ملکوں اور ریجنوں کا مرکزی شراکت دار بن چکا ہے۔ سفیر چانگ ہوا نے واضح کیا کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں مثلا آسیان ممالک اور بریکس گروپ ، یہ چین کی بیرونی تجارت کی نمو کے لیے نمایاں ترین محرک بن چکی ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی شراکت داری
چانگ ہوا نے چین اور سعودی عرب کے درمیان تزویراتی تعلقات کو بھرپور طریقے سے سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی ویژن 2030 کی بدولت دو طرفہ شراکت مسلسل گہری ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک سبز اور ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں اپنے تعاون کو ترقی دینے پر کام کر رہے ہیں۔ چانگ ہوا نے باور کرایا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مشرق وسطی کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں اولین جگہ دیتا ہے۔
مکالمے کے لیے دروازہ کھلا ہے
امریکی کسٹم ٹیرف کے جواب میں چین کے اقدامات کے حوالے سے سفیر چانگ ہوا نے کہا کہ یہ رد عمل "قومی مفادات کے قانونی دفاع" کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔ تاہم انھوں نے باور کرایا کہ چین اب بھی اختلافات کے حل کے لیے مکالمے اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ متبادل احترام اور برابری کی بنیاد پر ہوں۔
سرمایہ کاروں کے لیے پیغام
اپنی گفتگو کے اختتام پر چینی سفیر نے خطے میں سرمایہ کاروں کے لیے یہ پیغام دیا کہ چین عالمی معیشت میں استحکام کی طاقت رہے گا۔ مشرق وسطی کے ساتھ تعاون گہرا بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تا کہ بین الاقوامی اتار چڑھاؤ کے باوجود زیادہ یقین اور استحکام پر مبنی تجارتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔