سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، نرخ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی ہلچل کے اثرات پاکستان میں بھی شدت سے محسوس کیے جانے لگے ہیں۔

اسی ضمن میں پاکستان سمیت بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور کچھ بین الاقوامی فنانشل ادارے رواں سال اس قیمتی دھات کے نرخ مزید بڑھنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

پیر کو سونے کی قیمت میں صرف ایک دن میں 8100 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ تاریخی طور پر 357,800 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی، جو کہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

جنوری 2025 کے آغاز میں سونا 273,600 روپے فی تولہ دستیاب تھا، مگر اب محض تین ماہ میں یہ قیمت 85 ہزار روپے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ماہرین اس غیر معمولی اضافے کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ اثاثوں کی تلاش سے جوڑ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے مرکزی بینک، خاص طور پر امریکہ، چین اور یورپی یونین، تیزی سے سونا خرید رہے ہیں۔

دنیا بھر میں سونے کی قیمت طے کرنے کا مرکز لندن بلین مارکیٹ کے مطابق اِس وقت سونے میں سرمایہ کاری کا رجحان کئی دہائیوں کے بعد دوبارہ تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ پاکستانی ماہرین اور جیولرز بھی یہی بتا رہے ہیں کہ سونا مہنگا ہونے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی کی صورتحال ہے، نہ کہ مقامی مارکیٹ کا دباؤ۔

برطانیہ میں سونے کی قیمت پر نظر رکھنے والے ادارے میٹلز ڈیلی کے مطابق رواں سال جون کے لیے سونے کی کنٹریکٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور فی اونس 3400 ڈالر پر خریدا گیا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں فی اونس کی سونے کی قیمت میٹلز ڈیلی کے مطابق 2600 ڈالر تھی جو اب تقریباً 3400 ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اگر گذشتہ چھ مہینوں کے نرخوں سے موازنہ کیا جائے تو سونے کی فی اونس قیمت میں 500 ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

ادھر جیولرز اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو اگلے چند ہفتوں یا مہینوں میں سونا چار لاکھ روپے فی تولہ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

آل پاکستان جیمز، جیولرز اینڈ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد جاوید کے حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی پیش گوئی کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے، خاص طور پر امریکہ کا ریزرو بینک، سونا خریدنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ دھات مستقبل میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرتی رہے گی۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سونے کی قیمت میں کمی کے امکانات فی الحال کم ہیں، اس لیے جلد بازی میں سونا فروخت کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف بیلفاسٹ کے معاشی مؤرخ فلپ فلائرز کا کہنا ہے، ’اس وقت لوگ حصص مارکیٹ سے نکل رہے ہیں اور سونے کی طرف جا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔‘

اب یہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس سنہری موقع سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں، سرمایہ کاری کی جائے یا انتظار کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں