نابینا افراد کے لیے امید کی کرن: بینائی بحال کرنے والی دوا کی کامیاب آزمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بینائی سے محروم افراد کے لیے امید کی نئی روشنی سامنے آئی ہے، جب سائنسدانوں نے ایک ایسی دوا تیار کی ہے جو آنکھ کے اندر موجود اعصابی خلیات کو مرمت اور دوبارہ پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ابتدائی تجربات میں یہ دوا نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انسانی آنکھ میں خود کو ازسرِ نو بہتر کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے اور یہ صلاحیت مخصوص اینٹی باڈیز کے ذریعے بیدار کی جا سکتی ہے جو آنکھ کی شبکیہ میں اعصابی خلیات کی نشوونما کو متحرک کرتی ہیں۔ اس عمل کے ذریعے وہ افراد جنہوں نے بینائی کھو دی، دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق معروف سائنسی ویب سائٹ "سائنس الرٹ" نے شائع کی ہے۔ تحقیق کے مطابق جنوبی کوریا کے ماہرین پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم نے اس دوا کی تیاری میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دوا بینائی بحال کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، تاہم فی الوقت اس کا تجربہ صرف چوہوں پر کیا گیا ہے۔

یہ دوا ایک خاص اینٹی باڈی پر مشتمل ہے جو "Prox1" نامی پروٹین کو بلاک کرتی ہے۔ اگرچہ یہ پروٹین بذاتِ خود نقصان دہ نہیں بلکہ خلیات کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہی پروٹین شبکیہ کی اعصابی مرمت میں رکاوٹ بنتا ہے۔

یہ پروٹین شبکیہ کے اعصابی خلیات کی حمایت کرنے والے "مولر گلیال خلیات" میں داخل ہو جاتی ہے، جس سے ان کی ازسرِ نو تخلیق کی صلاحیت دب جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خلیات مچھلیوں جیسے جانوروں میں خودکار طور پر اعصابی خلیات پیدا کر لیتے ہیں، لیکن ممالیہ جانوروں، بشمول انسانوں میں یہ صلاحیت "Prox1" پروٹین کی وجہ سے دبی رہتی ہے۔ نئی دوا کا مقصد اسی رکاوٹ کو دور کرنا ہے۔

Untitled 1
Untitled 1

تحقیق میں لکھا گیا ہے"شبکیہ کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بینائی بحال کرنا مشکل اس لیے ہوتا ہے کہ وہ شبکیہ کے خلیات کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے۔"

"ٹھنڈے خون والے فقاریہ جانوروں کے برعکس ممالیہ جانوروں میں مولر گلیال خلیات کے ذریعے شبکیہ کی مرمت کا عمل موجود نہیں ہوتا"۔

ماہرین نے اپنی تکنیک کو لیبارٹری میں چوہوں پر آزمایا اور کامیابی حاصل کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مزید تحقیق کے بعد یہ طریقہ انسانوں کی آنکھوں پر بھی کامیابی سے اپنایا جا سکتا ہے۔

"سائنس الرٹ" کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ انسانوں پر اس دوا کا استعمال ابھی ممکن نہیں، لیکن تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آنکھ کے خلیات میں موجود شفا کی پوشیدہ طاقت کو جگایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس دوا پر انسانی تجربات 2028 تک شروع ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق اُن دیگر سائنسی کاوشوں کا حصہ ہے جو آنکھ کی مرمت کے لیے مختلف طریقوں پر کام کر رہی ہیں، جیسے کہ شبکیہ کے خلیات کو لیزر سے متحرک کرنا یا آنکھ میں نئی اسٹیم سیلز کا پیوند لگانا وغیرہ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size