عمار الامیر: ایک سعودی شہری جنہوں نے حرم مکی میں اپنے کیمرے کو خاموش دعوت بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

عمار الامیر وہ سعودی شہری ہیں جنہوں نے اپنے کیمرے کو حرم مکی میں خاموش دعوت بنا دیا۔ عمار الامیر نے اپنے کیمرے کے ذریعے جن لوگوں کے چہروں کے ساتھ خاص تعلق بنایا ان کے بارے میں یہ کہا ہے کہ "میں انہیں زمین پر چلنے والی کہانیوں کے طور پر دیکھتا ہوں، ہر حاجی کے پاس ایک پکار یا توبہ کا لمحہ ہوتا ہے۔" وہ عقیدت مندوں کے آنسوؤں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ تصویر سے ان جذبات کی نمائندگی نہیں کی جا سکتی تاہم وہ تصویر کو ان جذبات کی گہرائی اور سچائی تک لے جاتے ہیں۔

انجینئر عمار الامیر 1980 کی دہائی میں پیدا ہوئے۔ وہ طواف کے صحن میں اپنے پہلے قدم کو یاد کرتے ہیں جب انہوں نے اسلامی فن تعمیر کی خوبصورتی اور اس کی عمدہ تفصیلات کی ہیبت سے متاثر ہوکر ایک معمولی کیمرہ اٹھایا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیار سے تصویریں کھینچنا شروع کیں اور پھر میرا نقطہ نظر نایاب لمحات اور مخلصانہ احساسات کو دستاویزی شکل دینے کی طرف مائل ہو گیا۔

عمار الامیر کا شاہکار
عمار الامیر کا شاہکار

عمار الامیر نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ انہوں نے المسجد الحرام کی کتنی تصاویر کھینچی ہیں۔ وہ ہر شاٹ کو روحانی لمحہ اور ایک چھوٹی سی کھڑکی سمجھتے ہیں جس کے ذریعے دنیا اس جگہ کے تقدس کی جھلک دیکھ سکتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایک تصویر ایک خاموش دعوت ہے جو کسی ایسے دل کو متاثر کر سکتی ہے جس نے کبھی المسجد الحرام میں قدم نہیں رکھا۔ اس لیے میں انہیں تعداد کے اعتبار سے شمار نہیں کرتا۔ بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ ہر ایک کا اثر میری سوچ سے بڑھ کر ہو گا۔

عمار الامیر تصویر اتارتے ہوئے
عمار الامیر تصویر اتارتے ہوئے

37 سالہ عمار الامیر کے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً 359,000 فالوورز موجود ہیں۔ انہوں نے تقریباً 2,564 پوسٹس شائع کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر المسجد الحرام اور مقدس مقامات کے بارے میں ہیں۔ فوٹوگرافر عمار الامیر کا خیال ہے کہ یہ جگہ لوگوں کو اللہ کی محبت میں متحد کرتی ہے۔ یہاں کی ہر دعا، ہر آنسو اور ہر لمحہ دستاویزی اور لافانی ہونے کا مستحق ہے۔ اس لیے وہ ان کی تصاویر دیکھنے والے لوگوں کے لیے چاہتے ہیں کہ وہ ایسا محسوس کریں جیسے وہ خود وہاں موجود ہیں۔

سعودی فوٹوگرافر نے کسی بھی وقت المسجد الحرام کی تصویر کشی کے لیے متعدد ایوارڈز جیتے ہیں۔ عمار فجر اور غروب آفتاب کے وقت ناقابل بیان سکون کو اس لمحے کے طور پر دیکھتے ہیں جب روشنی اور روح ملتے ہیں۔ وہ بارش کو ایک غیر معمولی لمحہ کے طور پر بیان کرتے ہیں جو شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ بارش کا یہ لمحہ ان پسندیدہ انتخاب ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مسجد حرام کا ہجوم مسلمانوں کے اتحاد کی عکاسی کرتا ہے اور اختلافات کو ختم کرنے والا ایک عظیم منظر پیش کرتا ہے۔

عمار الامیر کا شاہکار
عمار الامیر کا شاہکار

کمپیوٹر انجینئرنگ اور انفارمیشن سسٹم میں مہارت کے باوجود اور ٹیلی ویژن کی ہدایت کاری میں کام کرنے کے باوجود فوٹو گرافی عمار الامیر کی شناخت کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرا شعبہ مختلف ہے لیکن فوٹو گرافی ہمیشہ میری زندگی اور میری شناخت کا حصہ رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ فوٹوگرافر کے ہاتھ میں ایک طاقتور ٹول بن گیا ہے جس نے تصویر میں ترمیم کے عمل کو ایک نئی جہت فراہم کی ہے۔ مصنوعی ذہانت تصویر کی روشنی میں اضافہ کرنے، شور یا نقائص کو دور کرنے، ناپسندیدہ عناصر کو ختم کرنے اور یہاں تک کہ تصویر کی روح سے سمجھوتہ کیے بغیر بہترین تفصیلات کو اجاگر کرنے اور مختلف فنکارانہ انداز میں ایک شاٹ کو تبدیل کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ عمار نے کہا حقیقی اثر صرف مصنوعی ذہانت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ فوٹوگرافر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جو اسے لگن اور بیداری کے ساتھ استعمال کرنا جانتا ہے۔ دل دہلا دینے والی تصویر وہ ہے جو حقیقی جذبات سے پیدا ہوتی ہے پھر اسے ذہین ٹیکنالوجی سے بہتر بنایا جاتا ہے۔

عمار الامیرکا ایک اور شاہکار
عمار الامیرکا ایک اور شاہکار

واضح رہے فوٹو گرافر عمار الامیر نے مقامی اور بین الاقوامی ایوارڈز جیتے ہیں اور وہ فوٹو گرافی کی متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے رکن ہیں جن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف فوٹوگرافی (FIAP) اور فوٹو گرافک سوسائٹی آف امریکہ (PSA) شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size