سعودی عرب میں جلد طلاقیں ... ماہر سماجیات کیا وجوہات بتاتے ہیں؟
اوسطاً روزانہ 157 طلاقوں کا اندراج ... الباحہ کا علاقہ مملکت میں سرفہرست
سعودی عرب میں بعض شادیوں کا انجام چند ہفتوں بعد ہی طلاق کی صورت میں سامنے آ رہا ہے حالانکہ ان شادیوں پر بھاری اخراجات اور محبت کے وعدے کیے گئے ہوتے ہیں۔
سعودی وزارتِ انصاف اور محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں روزانہ اوسطاً 157 طلاقیں ریکارڈ ہوئیں۔ یہ اوسط ہر 9 منٹ میں ایک طلاق کے برابر ہے، اور طلاقوں کی تعداد مجموعی شادیوں کا 12.6 فی صد ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ (36٪) طلاقیں مملکت کے جنوب مغرب میں واقع علاقے الباحہ میں ہوئیں، جبکہ ریاض میں 21.7٪ اور حائل میں 19.2٪ طلاقیں ریکارڈ کی گئیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 65 فی صد طلاقیں شادی کے پہلے ہی سال میں ہوئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوڑوں کے درمیان شروع سے ہم آہنگی نہیں تھی۔
فہد العتیبی اور ريم القحطانی جیسی مثالیں سامنے آئی ہیں جن کی شادیاں ڈیڑھ مہینے سے بھی کم چل سکیں۔ شادیاں ختم ہونے کی وجوہات میں غلط فہمیاں، ذمے داری سے فرار، اور مکالمے کی کمی شامل ہیں۔ اسی طرح احمد الريثی کا ماہِ عسل بھی ناکام رہا کیونکہ اس کی شریکِ حیات مثالی زندگی کی خواہاں تھی جبکہ وہ سادہ زندگی چاہتا تھا۔
سعودی ماہر سماجیات احمد النجار کے مطابق طلاق کی وجوہات میں شادی کی بڑی مالی لاگت، نا پختہ فیصلے، سطحی جان پہچان، خاندانوں کی حد سے زیادہ مداخلت، اور رشتے کے ابتدائی مرحلے میں غیر حقیقی توقعات شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شادی صرف تقریب نہیں بلکہ زندگی بھر کا رشتہ ہے، جو شعور، برداشت اور گفتگو کی حقیقی مہارتیں مانگتا ہے ... اور یہ صفات اکثر جوڑوں میں نہیں ہوتیں۔
-
سعودی عرب میں ایک سال کے دوران طلاق کے ساڑھے تین لاکھ کیسز
سعودی عرب کے ایک سینیر دانشور اور محقق طلال محمد الناشری نے ماہرین سے مطالبہ کیا ...
بين الاقوامى -
طلاق کے الفاظ دہرانے پر سعودی خاتون کا شوہر کے خلاف مقدمہ
سعودی عرب میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف "طلاق" کے لفظ کی مسلسل تکرار پر ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : خواتین کو طلاق کی ڈکری جاری ہونے کی اطلاع دینے کا نیا طریقہ
سعودی عرب میں وزارت انصاف نے خواتین کو عدالت سے اُن کی طلاق کی ڈکری جاری ...
مشرق وسطی