تین دہائیوں تک الربع الخالی کو دریافت کرنے والے ریت کے عاشق ایک سعودی کی کہانی
تنہا ٹیکنالوجی الربع الخالی کو دریافت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے: ناصر الوھبی کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے گفتگو
سعودی عرب میں الربع الخالی کے صحرا کی ریتوں کی کشش اس کی جغرافیائی، تاریخی اور جمالیاتی قدر میں پوشیدہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا متصل ریتلا علاقہ ہے۔ اس کا رقبہ اٹلی یا پولینڈ جیسے ملک سے بھی زیادہ ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر اس کا رقبہ تقریباً 430,000 مربع کلومیٹر تک پہنچتا ہے۔ اسی بات نے ایک سعودی شہری کو اس صحرائی علاقے کی تحقیق کرنے اور 33 سال تک اس کے ریت کے ٹیلوں کے درمیان سفر کرنے پر مجبور کیا۔
الربع الخالی فطرت کے ان رازوں کا صندوق ہے جو ابھی تک نہیں کھلے ہیں۔ یہ سعودی عرب میں ریت کے ذخائر کے رقبے کا 67.7 فیصد حصہ بنتا ہے۔ اسی لیے ناصر الوھبی کا خیال ہے کہ الربع الخالی لاپرواہ چیلنج کا میدان نہیں بلکہ غور و فکر اور دریافت کا ایک وسیع میدان ہے۔ جو بھی اس میں پر سکون روح کے ساتھ داخل ہوتا ہے وہ حیرت، علم اور ایسی سکونیت کے ساتھ باہر نکلتا ہے جو کسی اور چیز سے مشابہ نہیں ہے بلکہ اسے مقابلے کی روح سے قریب کردینے والی چیز ہے۔
49 سالہ ناصر الوھبی خود کو اس صحرائی علاقے میں ایک محقق سمجھتے ہیں۔ یہ صحرائی علاقہ جزیرہ نما عرب کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اس منفرد ماحول کو کم سمجھنا اور اسے محض دوسرے صحراؤں کی طرح ایک صحرائی پھیلاؤ سمجھنا سیاح کی جان لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے راستوں سے گزرنے کے لیے نیویگیشن آلات پر انحصار کرنا ہی کافی ہے ۔ انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ ان آلات کے خراب ہونے کی صورت میں حقیقی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح آس پاس کے علاقوں کے تجربہ کار باشندوں سے رجوع نہ کرنا بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
ہنگامی منصوبہ
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے ناصر الوھبی اس وسیع صحرا کی ساخت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ الربع الخالی بالکل مختلف ہے۔ جو اسے نہیں جانتا وہ خود کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار بغیر متبادل منصوبوں کے ایک مہلک غلطی ہے۔ آپ کا رابطہ منقطع ہو سکتا ہے یا آلات خراب ہو سکتے ہیں۔ یہاں آپ کے پاس زندہ رہنے کے لیے ہنگامی منصوبے ہونا ضروری ہے۔
نئی دریافت
الوہبی نے مشکلات کے سامنے صبر اور سکون اور فطرت کی عظمت کے سامنے عاجزی سیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سفر میں میں کچھ نیا دریافت کرتا ہوں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک نایاب سلفر چشمہ، لاکھوں سال پرانے درخت اور ایسے پودوں کی اقسام کی ویڈیو بنائی جن کا اس ماحول میں وجود غیر متوقع تھا۔
ہزاروں مقامات
ان نادر نشانات کو دستاویزی شکل دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ناصر الوھبی نے کہا کہ ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم ان کا اندازہ ہزاروں مقامات پر کیا جاتا ہے جنہیں ہر علاقے میں ماہر گائیڈز کی مدد سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس میں نقشے کے نقاط، تلفظ کا طریقہ اور اس سے متعلق عوامی ورثہ یا نظمیں شامل ہیں۔ خاص طور پر پانی کے وسائل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
اسی تناظر میں ایک حالیہ سائنسی تحقیقی مطالعے نے انکشاف کیا ہے کہ "الربع الخالی" جو دنیا کا سب سے بڑا متصل ریتلا صحرا ہے ماضی میں خشک اور بنجر زمین نہیں تھی بلکہ جھیلوں، ندیوں اور سرسبز چراگاہوں کا گھر تھی۔ شاہ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے کی گئی اس تحقیق نے وضاحت کی ہے کہ الربع الخالی تازہ پانی کی جھیلوں، بہتی ندیوں، گھاس کے میدانوں اور سرسبز علاقوں پر مشتمل ایک فطری ماحول تھا جس میں بھرپور ماحولیاتی نظام موجود تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ماحولیاتی حالات ایک مرطوب آب و ہوا کی مدت میں ظاہر ہوئے جسے "سبز عرب" کے نام سے جانا جاتا ہے جو تقریباً 11000 سے 5500 سال پہلے تک تھا۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ افریقہ اور بھارت سے آنے والی موسمی بارشیں مدارجی تبدیلیوں کے نتیجے میں اس علاقے میں نباتات اور حیوانات کی زندگی کو پھلنے پھولنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔
مسلسل دستاویزی عمل
ناصر الوھبی نے وضاحت کی کہ دستاویزی عمل ابھی جاری ہے اور اس کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے عام طور پر مقبول معلومات کو غلط قرار دیا ہے کہ متحرک ریتیں اس پر چلنے والے کو نگل لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وسیع فاصلے
انہوں نے کتنا فاصلہ طے کیا؟ اس بارے میں اندازہ لگایا کہ مختصر سفر عام طور پر تقریباً 4000 کلومیٹر کا ہوتا ہے جبکہ طویل سفر 13000 کلومیٹر تک پہنچتا ہے جس کے ذریعے انہوں نے سلطنت کی حدود میں الربع الخالی کے تمام علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے پڑوسی ممالک جیسے سلطنت عمان، یمن اور متحدہ عرب امارات کی حدود میں واقع حصوں کا ایک عمومی تصور ہی حاصل کیا ہے۔
22 ملین بیج
ناصر الوھبی نے الربع الخالی کے نخلستانوں کی بحالی کے لیے پہلی سرکاری پہل میں حصہ لیا۔ انہوں نے رضاکاروں اور ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ 22 ملین بیج بکھیرنے میں حصہ لیا۔ اس کا نفاذ "مروج" فاؤنڈیشن نے کیا اور یہ نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈویلپمنٹ اینڈ ڈیزرٹیفیکیشن کنٹرول کی نگرانی میں ہوا۔