دور دراز علاقوں میں جلد کے سرطان کی تشخیص تیز کرنے والا مصنوعی ذہانت کا آلہ
یہ ٹکنالوجی انٹرنیٹ کے بغیر کام کرتی ہے
اسکاٹ لینڈ میں ایک یونیورسٹی کی محققہ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے آلات تیار کیے ہیں جو دنیا کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے افراد کو جلد کے سرطان کی فوری تشخیص تک رسائی فراہم کر سکتے ہیں ... اور یہ جان بچانے میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔
ایڈنبرا میں واقع "ہیریئٹ - واٹ یونیورسٹی" کی پی ایچ ڈی کی طالبہ "ٹیس واٹ" نے اس منصوبے کی قیادت کی۔ انھوں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی "بی اے میڈیا" کو بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد دنیا کے کسی بھی کونے میں جلد کی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص ممکن بنانا ہے، بغیر اس کے کہ مریض کو براہِ راست جلد کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑے۔
یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کے بغیر بھی کام کرتی ہے۔ اس نظام میں مریض ایک چھوٹے کیمرے کے ذریعے ... جو "ریسپ بیری پائی" نامی ایک سستے، کم توانائی استعمال کرنے والے، لیکن بڑی مقدار میں ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کمپیوٹر پر نصب ہوتا ہے، اپنی جلد کی تصویر کھینچتا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے طبی تشخیص اور دور دراز افراد کی خدمت کو یکجا کرتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق اس تشخیصی آلے کی درستگی فی الحال 85 فی صد تک ہے، لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ جلد کی بیماریوں سے متعلق مزید ڈیٹا سیٹ تک رسائی اور جدید خود کار آلات کی مدد سے اس شرح کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔