ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جو ایران جنگ کے پہلے روز کے حملوں میں زخمی ہوئے تھے، ابھی تک منظرِ عام سے غائب ہیں۔ نئی امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے صاحب زادے جنگی حکمت عملی کی تشکیل میں حصہ لے رہے ہیں۔
تاہم سی این این کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس اندازوں سے یہ واضح ہوا ہے کہ مجتبیٰ کے کردار نے ایران کے اندرونی اختلافات ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں کی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ موجودہ سپریم لیڈر اب بھی اپنے جسم کے ایک پورے حصے پر آنے والے شدید زخموں کا علاج کروا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابقانٹیلی جنس تشخیص میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کے طریقہ کار کی رہنمائی میں تعاون کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹ سے واقف ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ وہ کسی قسم کے الیکٹرونک ذرائع استعمال نہیں کر رہے، بلکہ صرف ان محدود افراد سے ذاتی طور پر رابطے میں ہیں جو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں یا پھر کسی واسطے کے ذریعے پیغامات بھیج رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خامنہ ای اب بھی تنہائی میں اپنے زخموں کا علاج کروا رہے ہیں، جن میں جسم کے ایک حصے پر شدید زخم شامل ہیں جنہوں نے ان کے چہرے، بازو، دھڑ اور ٹانگ کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر فیصلہ سازی کے عمل سے نسبتاً دور ہیں اور ان تک رسائی صرف وقفے وقفے سے ممکن ہے۔ اسی لیے پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کے ساتھ مل کر روزمرہ کے معاملات چلا رہے ہیں۔ ایک اور ذریعے نے مزید کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ مسلسل احکامات جاری کر رہے ہوں، لیکن اس کے برعکس بھی کچھ ثابت نہیں ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں ایران پروجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا خیال ہے کہ ایرانی نظام مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بڑے فیصلوں کی حتمی منظوری کے لیے استعمال کر رہا ہے، نہ کہ مذاکرات کی تفصیلات کے انتظام کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجتبیٰ کے کردار کو جان بوجھ کر نمایاں کرنا ایرانی مذاکرات کاروں کو اندرونی تنقید کے خلاف ایک "حفاظتی ڈھال" فراہم کرتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ عوامی طور پر ظاہر نہیں ہو رہے، جس سے براہِ راست جانچ پڑتال کے بغیر ان کی طرف مختلف موقف منسوب کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر میں پروٹوکول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مظاہر حسینی نے جمعہ کو تصدیق کی کہ خامنہ ای اپنے زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور وہ اب "مکمل صحت مند" ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے زخم صرف پیر اور کمر کے نچلے حصے تک محدود تھے اور ایک "چھوٹا سا ٹکڑا کان کے پیچھے لگا تھا" ... اور اب یہ زخم بھرنے کے مراحل میں ہیں۔
مزید برآں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دشمن محض انہیں دیکھنے اور ان کے مقام کا تعین کرنے کے لیے افواہیں اور جھوٹے دعوے پھیلا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے لوگوں سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "وہ مناسب وقت پر آپ سے خطاب کریں گے۔"
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کے ساتھ ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات کی ہے، جو کسی بھی اعلیٰ ایرانی عہدے دار اور نئے سپریم لیڈر کے درمیان پہلی علانیہ براہِ راست ملاقات تھی۔
-
مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا : ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تہران میں تمام سیاسی اور ...
مشرق وسطی -
’ اپنے والد کے نقش قدم پر چلے تو انجام بھی ویسا ہی ہوگا‘:اسرائیل کی مجتبیٰ خامنہ ای کو دوب
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے ایرانی مرشد مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دیتے ہوئے ...
مشرق وسطی -
ایران کا بڑا کرپٹو پلیٹ فارم ایک ہی خاندان کے کنٹرول میں، خامنہ ای سے قریبی روابط کا دعویٰ
ایران میں ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں انکشاف سامنے آیا ...
مشرق وسطی