امریکی محصولات اور برطانیہ سے معاہدہ: بھارتی ٹریڈ یونینز، کسانوں کا ملک گیر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دس بڑی ٹریڈ یونینوں اور بھارتی کسانوں کی چالیس سے زیادہ یونینوں کے اتحاد نے 13 اگست کو حالیہ بھارت-برطانیہ تجارتی معاہدے اور امریکی صدر کی جانب سے بھارتی سامان پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کی تجویز کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

یونینوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو "صریح معاشی جبر" قرار دیا اور شہریوں سے ان کے خلاف مزاحمت کرنے کا مطالبہ کیا۔

منتظمین نے "تمام کسانوں، محنت کشوں، طلباء اور محب وطن شہریوں سے 13 اگست 2025 کو ملک گیر یومِ مزاحمت میں شامل ہونے کی اپیل کی جس میں ٹریکٹر اور موٹرسائیکل ریلیوں، احتجاجی مظاہروں، عوامی اجتماعات اور مختلف پلیٹ فارمز اور شراکتی تنظیموں کی طرف سے فیصلہ کردہ احتجاج کی دیگر صورتیں شامل ہیں۔"

مزید برآں گروپوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت کو ٹیرف کے خطرے کے خلاف ثابت قدم رہنا چاہیے اور روس سمیت تمام ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے لیے اپنے حق پر زور دینا چاہیے۔

دریں اثناء منتظمین نے بھارت-برطانیہ جامع اقتصادی تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) پر تجارتی سامراجیت پر عمل کرنے کا الزام لگایا جبکہ مطالبہ کیا کہ مستقبل کے تجارتی سودوں کو مکمل شفافیت اور تمام متعلقین کی شرکت کے ساتھ حتمی شکل دی جائے۔

بیان میں کہا گیا، "ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کے ذریعے بھارت کو نوآبادیاتی بنایا - آج سی ای ٹی اے اور امریکی تجارتی معاہدے تجارتی سامراج کے نئے ہتھیار ہیں۔"

حکومت کو اس کی خاموشی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گروپوں نے کہا، امریکی کارپوریشنز "خودمختار ممالک" پر دباؤ ڈالنے کے لیے محصولات کا استعمال کر رہی ہیں۔

اس لیے طے شدہ احتجاج کا مقصد بھارت کی خودمختاری اور معاشی آزادی کا دفاع کرنا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ 13 اگست کو کسان اور مزدور خودمختاری اور آزادی کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایک واضح پیغام بھیجیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں