لبنان کی نازک صورت حال، امریکی مؤقف میں ابہام، حکومت کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے: ذرائع
امریکہ نے لبنان کی حکومت کے اُن فیصلوں کا خیر مقدم کیا ہے جو نومبر 2024ء میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے کیے گئے۔
امریکی ایلچی ٹوم بَراک نے لبنانی اعلان کے بعد اپنے پیغام میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ لبنان کو اقتصادی ترقی اور ہمسایوں کے ساتھ امن قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کا ہدف ایک مضبوط لبنانی ریاست ہے جو حزب اللہ کا مقابلہ کر سکے اور اس کا اسلحہ ضبط کرے۔
واشنگٹن اور بیروت کے درمیان فاصلہ
العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق لبنان اس وقت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حکومت بڑے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ حکومت ہتھیار صرف ریاست کے پاس رکھنے اور حزب اللہ سمیت تمام مسلح گروپوں سے اسلحہ جمع کرنے کے وعدے پر عمل درآمد کی کوشش کررہی ہے۔ مگر وہ امریکہ سے ٹھوس عملی اقدامات کی توقع رکھتی ہے۔
ٹوم بَراک نے اب تک لبنان کو کوئی ضمانت دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ محض ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، جس کے تحت اسرائیلی فوجی کارروائی روکنے اور جنوبی لبنان کی پانچ مقبوضہ پوزیشنز سے انخلا کی کوشش کی جائے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
اسرائیلی شرائط اور لبنانی مشکلات
اسرائیل کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ دریائے لیتانی کے جنوب میں حزب اللہ کوئی زمینی حملہ نہ کر سکے اور اس کے پاس دور مار میزائل نہ ہوں۔ تاہم اسرائیل نے فوجی انخلا یا فضائی کارروائیاں روکنے کی کوئی پیشگی یقین دہانی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس رویے نے حکومت لبنان کو سفارتی دباؤ اور اندرونی سیاسی تنقید دونوں سے دوچار کیا ہے۔
حزب اللہ کو فوج میں ضم کرنے کی تجویز
ٹوم بَراک نے حال ہی میں امکان ظاہر کیا کہ حزب اللہ کے عناصر کو لبنانی فوج میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ لبنان کی شیعہ آبادی کی نصف کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر ضرورت پڑے تو انضمام ہونا چاہیے۔ اس پر امریکہ کی سرکاری پالیسی واضح نہیں، مگر تجویز زیر غور ضرور ہے۔ واشنگٹن میں حزب اللہ مخالف حلقے اس خیال پر شدید برہم ہیں اور اسے لبنانی فوج کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔
امریکی امداد میں کمی
بَراک کے بیانات کے باوجود امریکہ کی عملی دلچسپی محدود نظر آتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں لبنان کے لیے صرف 14 ملین ڈالر رکھے گئے ہیں، وہ بھی دہشت گردی سے نمٹنے اور انسانی امداد کے لیے مختص ہیں۔ فوجی سازوسامان یا اہلکاروں کی کفالت کے لیے کوئی رقم نہیں۔ رواں سال 2025ء میں لبنانی فوج اور سکیورٹی اداروں کے لیے 100 ملین ڈالر سے زائد کی امداد دی گئی تھی، جو سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے مصر کے فنڈز سے منتقل کی تھی۔