پاکستان کی ’برقع پوش‘ خاتون اول عالمی توجہ کا خاص مرکز!
پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد کرکٹ کے سابق ہیرو عمران خان ملک کے نئے وزیراعظم تو بنے مگرساتھ ان کے ساتھ ساتھ ان کی تیسری اہلیہ جو اب خاتون اول ہیں بھی عالمی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عمران خان کی اہلیہ ’بُشریٰ بی بی‘ کو اپنے شوہر کی تقریب حلف برداری میں دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ وہ اب دیگر سرکاری تقریبات میں بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔ بشریٰ اس لیے توجہ کا زیادہ مرکز نہیں کہ وہ عمران خان کی بیوی ہیں بلکہ ان کی توجہ کا مرکز ان کا مخصوص لباس یعنی برقع اوڑھنا اور چہرے کا نقاب کرنا ہے۔ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں انہوں نے چہرے کا مکمل نقاب کرکے شرکت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان کے قومی دن کے موقع پر ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں بھی بشریٰ بی بی کو مکمل حجاب میں دیکھا گیا۔
بشریٰ بی بی کے لباس پر پاکستان میں ملی جلی آراء پائی جا رہی ہیں۔ مذہبی حلقے اس لباس کو پسندیدہ قرار دیتے ہیں مگر لبرل حلقوں کو بشریٰ بی بی کا برقع برداشت نہیں ہوتا۔ صحافتی حلقے بھی اس پر اپنا اپنا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن اور صحافیہ سمیرہ خان نے ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ ایک ٹویٹ میں کہا کہ بشریٰ بی بی کو یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے زیب تن کرے مگر خاتون اول ہونے کی وجہ سے انہیں پورے پاکستان کی خواتین کی نمائندگی کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کو ان ملکوں کے طور پر دیکھتی ہے جہاں خواتین پر تشدد عام سی بات ہے۔ میرے خیال میں ان کا یہ لباس تمام پاکستانی عورتوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ میری معلومات کے مطابق قرآن پاک میں ایسی کوئی آیت یا حکم موجود نہیں جس میں آنکھوں کے سوا باقی سب کچھ ڈھانپے کا حکم ہو۔
اس کے جواب میں ایک صحافی ظفر نے سمیرہ خان کے موقف پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے سمیرہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ضمیر کیا کہتا ہے کیا اسے [بشریٰ بی بی] کو حجاب اتار کر مغربی کلچر کی نمائندگی اختیار کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر بھی بشریٰ بی بی کے حجاب اور چہرے کے پردہ پر تعریف وتنقید کا سلسلہ جاری ہے۔