آوارہ کتوں نے دو ملکوں کے درمیان جنگ بھڑکا دی، سیکڑوں افراد ہلاک

بلقان کی پہلی جنگ کے اختتام کے ساتھ ہی یونان اور بلغاریہ کے درمیان سفارتی تعلقات خراب ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر یورپ میں سفارتی تعلقات میں کشیدگی اور سرد مہری دیکھنے کو ملی۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے اور اسے تاریخ کی سب سے شدید جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جرمنی اور اس کے اتحادیوں پر عائد کیے گئے امن معاہدوں نے یورپی ممالک کے درمیان نفرت اور دشمنی کو بڑھاوا دیا۔

اسی دوران، بلقان میں بھی ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد یوگوسلاویہ کی سلطنت بنی، جس کے کئی پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب تھے۔ اس کے علاوہ، یونان اور بلغاریہ کے درمیان دشمنی پیدا ہوئی جو 1925 میں ایک آوارہ کتے کے واقعے کی وجہ سے جنگ میں تبدیل ہو گئی۔

یونان اور بلغاریہ کے درمیان دشمنی

انیسویں صدی میں یونان اور بلغاریہ نے صدیوں تک جاری عثمانی حکومت سے آزادی حاصل کی۔ بیسویں صدی کے شروع میں، پہلی بلقان جنگ کے دوران یونان اور بلغاریہ دوست اور اتحادی بن گئے اور دونوں نے عثمانی سلطنت کے خلاف مل کر لڑائی کی۔

لیکن چند ماہ بعد، اتحادی ممالک میں اختلافات پیدا ہو گئے اور دوسری بلقان جنگ شروع ہوئی، جون 1913 میں اس جنگ میں بلغاریہ یونان اور دیگر بلقان ممالک کے خلاف لڑےاور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یعنی اس بار بلغاریہ کے سابق اتحادی اس کے مخالف بن گئے۔

جب پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی، تو بلغاریہ نے جرمنی اور آسٹرو-ہنگری کے ساتھ اتحاد کیا، جبکہ یونان نے اس وقت تین رُکنی اتحاد (Triple Entente) کے ساتھ شمولیت اختیار کی، جس میں فرانس، برطانیہ اور روس شامل تھے۔ جنگ کے اختتام کے بعد، 1919 میں بلغاریہ پر نیوئی معاہدہ (Neuilly Treaty) نافذ کیا گیا، جس کے تحت اسے بڑی مالی معاوضہ ادائیگی پر مجبور کیا گیا اور کچھ علاقوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان علاقوں میں سے تراقیہ مغربی کا بڑا حصہ یونان کے حوالے کر دیا گیا۔

اگلے چند سالوں میں، یونان اور بلغاریہ کے تعلقات کشیدہ رہے۔ اور 1925 میں یہ کشیدگی ایک عجیب واقعے کی وجہ سے فوجی تنازعے میں بدل گئی۔

ایک کتے کی وجہ سے جھڑپیں

18 اکتوبر 1925 کو یونان اور بلغاریہ کی سرحد پر ایک یونانی فوجی اپنے کتے کا پیچھا کر رہا تھا، جو وہاں سے بھاگ گیا تھا، تاکہ اسے پکڑ سکے۔ اتفاقی طور پر یہ یونانی فوجی سرحد پار کر گیا۔ اس دوران، ایک بلغاری فوجی نے اسے دیکھ کر فائر کیا اور یونانی فوجی کو ہلاک کر دیا۔

اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی۔ یونان نے اپنے فوجی کی ہلاکت کی شدید مذمت کی اور ساتھ ہی بلغاری فوج کی سرحد پار مداخلت کا الزام بھی عائد کیا۔ دوسری طرف، بلغاریہ نے یونان سے معذرت کی اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

یونان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور بلغاریہ سے مطالبہ کیا کہ ہلاک ہونے والے فوجی کے خاندان کو تقریباً دو ملین فرانسیسی فرینک ادا کیے جائیں۔ جب یہ مطالبہ پورا نہ ہوا، تو 22 اکتوبر 1925 تک یونان نے پیٹریچ (Petrich) کے علاقے پر فوجی کارروائی شروع کر دی، جو بلغاریہ میں وہی جگہ تھی جہاں واقعہ پیش آیا تھا۔

یونان کی مداخلت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ یہ جھڑپیں تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہیں، جس کے دوران 121 یونانی اور تقریباً 80 بلغاری ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل تھے۔

اس تنازعے کے دوران لیگ آف نیشنز نے مداخلت کی اور یونان پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کرے اور اپنی فوجیں بلغاریہ کی زمین سے واپس بلائے۔ علاوہ ازیں، لیگ آف نیشنز نے یونان کی جلد بازی میں کی جانے والی فوجی کارروائی کی بھی مذمت کی اور اسے بلغاریہ کو 45 ہزار برطانوی پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں