امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ اب بھی ممکن ہے، اگرچہ امریکا نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہاں، میرے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، مجھے اس پر مکمل یقین ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے دو روز قبل ان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا تھا، لیکن پھر انہوں نے کہا کہ ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے، اس لیے اس پر مزید مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ واشنگٹن آج رات ایران کے خلاف ایک اور بڑے حملے کی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ کے بقول: ہم ایران کی جارحانہ عسکری صلاحیتوں کو ختم کر رہے ہیں۔
At 4:45 p.m. ET today, U.S. Central Command began launching the third consecutive night of strikes against Iran, at the Commander in Chief's direction. These strikes will continue imposing a heavy cost on Iranian forces and degrade their ability to attack innocent civilians and…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 13, 2026
بھاری نقصان
دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مسلسل تیسری رات بھی ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے اور بے گناہ شہریوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دیں گے۔
بیان کے مطابق یہ فضائی کارروائیاں مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 45 منٹ (8:45 گرینچ وقت) پر شروع کی گئیں۔
شدید حملے
اس سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا پیر اور منگل کی شب ایران پر شدید حملے کرے گا۔
ٹرمپ نے پیر کے روز ''ہیو ہیوٹ شو'' کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا: ہم آج رات انہیں پوری شدت سے نشانہ بنائیں گے اور کل بھی بھرپور حملے کریں گے اور وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں گے۔
واشنگٹن کامیاب ہوگا
ٹرمپ نے مزید کہا کہ فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن مذاکرات کے ذریعے ہو یا فوجی حل کے ذریعے، ہر صورت کامیاب ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ایک امتحان تھی، مگر انہوں نے اس کا احترام نہیں کیا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جنگ بندی واقعی ختم ہو چکی ہے یا نہیں۔
ہم ''بی کاکس ماؤنٹین ''کو تباہ کر دیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا: اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ ایک ہی دن میں انہیں استعمال کر دیتا۔ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکا ایران کے'' بی کاکس ماؤنٹین'' نامی جوہری مقام کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے کہا: ہم بی کاکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے۔ ایرانیوں سے کہہ دیں کہ وہ تیار رہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم بی کاکس ماؤنٹین پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں وہاں کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ ان کا جوہری پروگرام اچھی حالت میں نہیں ہے۔ جب بھی ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، ہم اسے نشانہ بناتے ہیں۔ اسی لیے وہ اس کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ تاہم غالب امکان ہے کہ ہم مستقبل قریب میں'' بی کاکس ماؤنٹین'' پر ایک اور حملہ کریں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ''بی کاکس ماؤنٹین'' ایران کے شہر نطنز کے قریب واقع ہے، جہاں یورینیم افزودگی کی اہم تنصیب موجود ہے، جو حالیہ حملوں میں شدید متاثر ہوئی تھی۔ یہ انتہائی مضبوط حفاظتی انتظامات والا مقام ہے، جہاں زمین کی گہرائی میں دو بڑے سرنگی کمپلیکس قائم ہیں۔
ایرانی نظام کا 25 فیصد ختم کر نے کا دعوی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس نہ مؤثر فضائی قوت ہے، نہ بحری قوت اور نہ ہی تقریباً کوئی قابلِ ذکر عسکری صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ہم نے ان کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت کو ختم کر دیا ہے اور ایرانی نظام کا 25 فیصد ختم کر دیا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب ٹرمپ نے اس سے قبل پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے گا، تاہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی۔یہ پیش رفت گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان میزائلوں اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے۔